ghazalKuch Alfaaz

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا لگ دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جو دیکھنا تھا لگ دیکھا تجھے دیکھ کر حقیقت مسائل تصوف اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی لگ دیکھا لگ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جن ہوں نے ہزاروں حجابوں ہے وہ ہے وہ پروا لگ دیکھا لگ ہمت لگ قسمت لگ دل ہے لگ آنکھیں لگ ڈھونڈان پایا لگ سمجھا لگ دیکھا بے حد درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے یہ سینا یہ دل یہ کلیجہ لگ دیکھا حقیقت کب دیکھ سکتا ہے ا سے کی تجلی ج سے انسان نے اپنا ہی جلوہ لگ دیکھا بے حد شور سنتے تھے ا سے صورت آشنا کا ی ہاں آ کے جو کچھ سنا تھا لگ دیکھا اسے دیکھ کر اور کو پھروں جو دیکھے کوئی دیکھنے والا ایسا لگ دیکھا گیا تو تو کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا ذرا مری آنے کا رستہ لگ دیکھا تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور کبھی داغ کو ہم نے تنہا لگ دیکھا

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Dagh Dehlvi

रंज की जब गुफ़्तुगू होने लगी आप से तुम तुम से तू होने लगी चाहिए पैग़ाम-बर दोनों तरफ़ लुत्फ़ क्या जब दू-ब-दू होने लगी मेरी रुस्वाई की नौबत आ गई उन की शोहरत कू-ब-कू होने लगी है तिरी तस्वीर कितनी बे-हिजाब हर किसी के रू-ब-रू होने लगी ग़ैर के होते भला ऐ शाम-ए-वस्ल क्यूँँ हमारे रू-ब-रू होने लगी ना-उम्मीदी बढ़ गई है इस क़दर आरज़ू की आरज़ू होने लगी अब के मिल कर देखिए क्या रंग हो फिर हमारी जुस्तुजू होने लगी 'दाग़' इतराए हुए फिरते हैं आज शायद उन की आबरू होने लगी

Dagh Dehlvi

1 likes

ا سے ادا سے حقیقت کہوں کرتے ہیں کوئی جانے کہ وفا کرتے ہیں یوں وفا عہد وفا کرتے ہیں آپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں ہم کو بدل کافر تو پچھتاؤگے ہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں نامہ بر تجھ کو سلیقہ ہی نہیں کام باتوں ہے وہ ہے وہ بنا کرتے ہیں چ لیے عاشق کا جنازہ دل گیر آپ بیٹھے ہوئے کیا کرتے ہیں یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کو دل جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں حسن کا حق نہیں رہتا باقی ہر ادا ہے وہ ہے وہ حقیقت ادا کرتے ہیں تیر آخر شوق پنہانی ہے ہم اخیر آج دعا کرتے ہیں روتے ہیں غیر کا رونا پہروں یہ ہنسی مجھ سے ہنسا کرتے ہیں ا سے لیے دل کو لگا رکھا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ محبوب رہا کرتے ہیں جاناں ملوگے لگ و ہاں بھی ہم سے حشر سے پہلے گلہ کرتے ہیں جھانک کر روزن در سے مجھ کو کیا حقیقت شوخی سے حیا کرتے ہیں ا سے نے احسان جتا کر یہ کہا آپ ک سے منا سے گلہ کرتے ہیں روز لیتے ہیں نیا دل دلبر نہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں داغ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہے جبر پر دل پامال کیا کرتے ہیں

Dagh Dehlvi

5 likes

ا سے نہیں کا کوئی علاج نہیں روز کہتے ہیں آپ آج نہیں کل جو تھا آج حقیقت مزاج نہیں ا سے بکھیرا کا کچھ علاج نہیں آئی لگ دیکھتے ہی اتراے پھروں یہ کیا ہے ا گر مزاج نہیں لے کے دل رکھ لو کام آئےگا گو ابھی جاناں کو احتیاج نہیں ہوں سکیں ہم سال ہجر کیونکر ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں چپ لگی کہکشاں جاں فزا کو تری ا سے مسیحا کا کچھ علاج نہیں دل بے مدعا خدا نے دیا اب کسی اجازت کی احتیاج نہیں کھوٹے داموں ہے وہ ہے وہ یہ بھی کیا ٹھہرا درہم 'داغ کا رواج نہیں اژدہا کی شان کہتی ہے بندگی کی کچھ احتیاج نہیں دل لگی کیجیے رقیبوں سے ا سے طرح کا میرا مزاج نہیں عشق ہے پادشاہ عالم گیر گرچہ ظاہر ہے وہ ہے وہ تخت و تاج نہیں درد فرقت کی گو دوا ہے وصال ا سے کے قابل بھی ہر مزاج نہیں یا سے نے کیا بجھا دیا دل کو کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں حور سے پوچھتا ہوں جنت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے جگہ کیا بتوں کا راج نہیں دل پامال بھی دل کو داغ دے ل

Dagh Dehlvi

2 likes

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا میرے قابو میں نہ پہروں منتظر آیا وہ میرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں کس مصیبت سے ترا کشہ بیداد آیا جذب وحشت تری قربان ترا کیا کہنا کھنچ کے رگ رگ میں مری نشتر فساد آیا اس کے رکے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا داد لینے کے لیے حسن خدا داد آیا بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے جو کیا تو نے وہ آگے تری فرہاد آیا دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں کام کس کس کے میرا خرمن برباد آیا عشق کے آتے ہی منہ پر مری پھولی ہے بسنّت ہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا جب مری ہاتھ کوئی خامہ فولاد آیا عید ہے قتل میرا اہل تماشا کے لیے سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے کام عقبہ میں ہمارا منتظر آیا دی شب وصل موذن نے اذان پچھلی رات ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا میرے

Dagh Dehlvi

0 likes

ساز یہ کی لگ ساز کیا جانیں ناز والے نیاز کیا جانیں شمع رو آپ گو ہوئے لیکن لطف سوز و گداز کیا جانیں کب کسی در کی جبہہ سائی کی شیخ صاحب نماز کیا جانیں جو رہ عشق ہے وہ ہے وہ قدم رکھیں حقیقت نشیب و فراز کیا جانیں پوچھیے مے کشوں سے لطف شراب یہ مزہ پاک باز کیا جانیں بلے چت ون تری غضب ری نگاہ کیا کریںگے یہ ناز کیا جانیں جن کو اپنی خبر نہیں اب تک حقیقت مری دل کا راز کیا جانیں حضرت خضر جب سلطان لگ ہوں لطف عمر دراز کیا جانیں جو گزرنے ہیں داغ پر صدمے آپ بندہ نواز کیا جانیں

Dagh Dehlvi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Dagh Dehlvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Dagh Dehlvi's ghazal.