ghazalKuch Alfaaz

عشق ہے وہ ہے وہ نے لکھ ڈالا قومیت کے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو بازوؤں نے ہی باپ بن کے پالا ہے سوچتا ہوں کیا لکھوں ولدیت کے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ساتھ دیتی ہے مری ساتھ رہتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے لکھا تنہائی زوجیت کے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں سے جا کر جب مشورہ کیا تو پھروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کچھ نہیں لکھا حیثیت کے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ امتحاں محبت کا پا سے کر لیا ہے وہ ہے وہ نے اب یہی ہے وہ ہے وہ لکھوں گا اہلیت کے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب سے آپ مری ہیں فخر سے ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں نام آپ کا اپنی ملکیت کے خانے ہے وہ ہے وہ

Amir Ameer4 Likes

Related Ghazal

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Amir Ameer

یہ میرا عک سے جو ٹھہرا تری نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے نہیں ہے پیار تو پھروں کیا تری صلاح ہے وہ ہے وہ ہے نہیں ہے سمے کی جرأت کہ چھو سکے ا سے کو یہ تیرا حسن کہ جب تک مری پناہ ہے وہ ہے وہ ہے نظر جو تجھ پہ گردشیں تو ذرا نہیں سنتی ک ہاں ثواب ہے وہ ہے وہ ہے یہ ک ہاں گناہ ہے وہ ہے وہ ہے زبان سنبھال کے اب نام لے رقیب ا سے کا جو تیرا پیار تھا حقیقت اب مری نکاح ہے وہ ہے وہ ہے

Amir Ameer

5 likes

پیار کی ہر اک رسم کہ جو متروک تھی ہے وہ ہے وہ نے جاری کی عشق لبادہ تن پر پہنا اور محبت تاری کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب شہر عشق ہے وہ ہے وہ کچھ قانون بنانے والا ہوں اب ا سے ا سے کی خیر نہیں ہے ج سے ج سے نے کربل کی پہلے تھوڑی بے حد محبت کی کہ کیسی ہوتی ہے پر جب اصلی چہرہ دیکھا ہے وہ ہے وہ نے تو پھروں ساری کی جو بھی مڑ کر دیکھےگا حقیقت پتھر کا ہوں جائےگا دیکھو دیکھو شہر ہے وہ ہے وہ آئی سناٹا اور تاریکی ایک جنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کا تھا ایک جنم ہے وہ ہے وہ حقیقت میرا ہم نے کی ہر بار محبت لیکن باری باری کی ہم سا ہوں تو سامنے آئی عادل اور انصاف پسند دشمن کو بھی خون رولایا یاروں سے بھی یاری کی ایسا پیار تھا ہم دونوں ہے وہ ہے وہ کہ برسوں لاعلم رہے ا سے نے بھی کردار نبھایا ہے وہ ہے وہ نے بھی فنکاری کی بات تو اتنی سی ہے واپ سے جانے کو ہے وہ ہے وہ آیا تھا سان سے اٹھائی عمر سمیٹی چلنے کی تیاری کی

Amir Ameer

4 likes

حسن تیرا غرور میرا تھا سچ تو یہ ہے قصور میرا تھا رات یوں تری خواب سے گزرا کہ بدن چور چور میرا تھا آئینے ہے وہ ہے وہ جمال تھا تیرا تری چہرے پہ نور میرا تھا آنکھ کی ہر زبان پر کل تک بولنے ہے وہ ہے وہ عبور میرا تھا ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ نام میرا لگ تھا ذکر بین السطور میرا تھا ایک ہی سمے ہے وہ ہے وہ جنون و خرد لا شعور و شعور میرا تھا

Amir Ameer

3 likes

یہ یشودا ڈبیا ہے وہ ہے وہ جو پڑی ہے حقیقت منا دکھائی پڑی رہےگی جو ہے وہ ہے وہ بھی روٹھا تو صبح تک تو سجی سجائی پڑی رہےگی لگ تو نے پہنے جو اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ مری ان انگلیوں کے کنگن تو سوچ لے کتنی سونی سونی تری کلائی پڑی رہےگی ہمارے گھر سے یوں بھاگ جانے پہ کیا بنےگا ہے وہ ہے وہ سوچتا ہوں باندی بھر ہے وہ ہے وہ کئی مہینوں تلک دہائی پڑی رہےگی ج ہاں پہ کپ کے کنارے پر ایک لپ اسٹک کا نشان ہوگا وہیں پہ اک دو قدم کی دوری پہ ایک ٹائی پڑی رہےگی ہر ایک خانے سے پہلے جھگڑا کھلائے گا کون پہلے لقمہ ہمارے گھر ہے وہ ہے وہ تو ایسی باتوں سے ہی لڑائی پڑی رہےگی اور اب مٹھائی کی کیا ضرورت ہے وہ ہے وہ تجھ سے اگانے کے جا رہا ہوں م گر ہے افسو سے تری ہاتھوں کی ر سے ملائی پڑی رہےگی مجھے تو آف سے کے آٹھ گھنٹوں سے ہول آتا ہے سوچ کر یہ ہمارے مابین روز برسوں کی یہ جدائی پڑی رہےگی جو مری مانو تو مری آف سے ہے وہ ہے وہ کوئی مرضی کی جاب کر لو کہ ہم نے کیا کام وام کرنا ہے کاروائی پڑی رہےگی ہمارے سپنے کچھ ا سے طرح سے جگائے رکھیں گے رات ساری

Amir Ameer

7 likes

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا محبت کا تماشائی مجھے اچھا نہیں لگتا حقیقت جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیں تبھی سے تنخواہ جولائی مجھے اچھا نہیں لگتا حقیقت شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ ا سے کی باتوں کا قریباً ایک چوتھائی مجھے اچھا نہیں لگتا لگ جانے اتنی کڑواہٹ ک ہاں سے آ گئی مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کرے جو مری اچھائی مجھے اچھا نہیں لگتا مری دشمن کو اتنی فوقیت تو ہے بہر صورت کہ تو ہے ا سے کی ہم سائی مجھے اچھا نہیں لگتا لگ اتنی داد دو ج سے ہے وہ ہے وہ مری آواز دب جائے کرے جو یوں پذیرائی مجھے اچھا نہیں لگتا تری خاطر نظر انداز کرتا ہوں اسے ور لگ حقیقت جو ہے نا ترا بھائی مجھے اچھا نہیں لگتا

Amir Ameer

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Amir Ameer.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Amir Ameer's ghazal.