ghazalKuch Alfaaz

jaadu thi sehr thi bala thi zalim ye tiri nigah kya thi kidhar hai kahan hai khush-dili tu ham se bhi kabhu tu ashna thi shirin bhi tujhi si thi sitamgar laila bhi agarche bevafa thi farhad pe is qadar na tha zulm majnun pe na ye ghhazab jafa thi maara hai 'bayan' ko jin ne ai shokh kya janiye kaun si ada thi jadu thi sehr thi bala thi zalim ye teri nigah kya thi kidhar hai kahan hai khush-dili tu hum se bhi kabhu tu aashna thi shirin bhi tujhi si thi sitamgar laila bhi agarche bewafa thi farhad pe is qadar na tha zulm majnun pe na ye ghazab jafa thi mara hai 'bayan' ko jin ne ai shokh kya jaaniye kaun si ada thi

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے

Ahmad Abdullah

50 likes

جب سے ا سے نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف ا سے کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اب تک جتنے بھی لوگوں ہے وہ ہے وہ خود کو بانٹا ہے بچپن سے رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف ایک طرف مجھے جل گرا ہے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ گھر کرنے کی ایک طرف حقیقت کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے لیکن تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف ا سے کی آنکھوں نے مجھ سے مری خودداری چینی ورنا پاؤں کی ٹھوکر سے کر دیتا تھا ہے وہ ہے وہ دنیا ایک طرف مری مرضی تھی ہے وہ ہے وہ زرے چنتا یا لہریں چنتا ا سے نے صحرا ایک طرف رکھا اور دریا ایک طرف

Tehzeeb Hafi

122 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bayan Ahsanullah Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bayan Ahsanullah Khan's ghazal.