ghazalKuch Alfaaz

جاسوس کہہ منج یار کوں مو چھوڑ کر کس سات ہے اس شہر کا دے منج نشاں او باٹ کہہ کس دھات ہے ہے رین اندھاری اس اپر ہو راہ دھوان و دود ہے اس نین نا بوجھیں کدھیں اس کا دوا کس ہات ہے کہتے ہیں پیو کے رخ اوپر پنجا غباری خط صحی یا عاشقاں کوں موہنی افسون کا آیات ہے تج کوں دعا کر نہ سکوں ہر مو اگر صد جیب ہوے یک چھن نگر میں ناسکوں اس نور کا لمعات ہے کہتے ہیں مسلم ہیں سدا اس جیوں کا بوجھے ہیں راز بیچارے اے بوجھیں کہاں لقمان حکمت مات ہے میں پیو کا دیوانہ ہوں مکھ مصحف آیت منج دیکھا کس تھے پڑیا نہ جائے او میں بہت صیغات ہے وقت صبوحی ہے کرو یاراں صبوحی سب تمہیں میری صبوحی جیو کی اس وصف کا ابیات ہے یک حرف اس مکھ جفر کا ہے علم مشکل کن بجھے او جفر جے کوئی بوجیا اس کو سدا جنات ہے ڈر نئیں معانی کے تئیں باد سموم دوتیاں او نام سب دن ورد کر اس نام میں درجات ہے

Related Ghazal

چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا

Kushal Dauneria

54 likes

ا سے نے دو چار کر دیا مجھ کو ذہنی بیمار کر دیا مجھ کو کیوں نہیں دسترسی ہے وہ ہے وہ تو مری کیوں طلبگار کر دیا مجھ کو کبھی پتھر کبھی خدا ا سے نے چاہا جو یار کر دیا مجھ کو ا سے سے کوئی سوال مت کرنا ا سے نے انکار کر دیا مجھ کو ایک انسان ہی تو مانگا تھا اس کا کا کو بھی مار کر دیا مجھ کو

Himanshi babra KATIB

51 likes

اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا

Zubair Ali Tabish

66 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

دل کو تیری خواہش پہلی بار ہوئی ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بارش پہلی بار ہوئی مانگنے والے ہیرے اندھیرا مانگتے ہیں اشکوں کی فرمائش پہلی بار ہوئی ڈوبنے والے اک اک کر کے آ جائیں دریا ہے وہ ہے وہ گنجائش پہلی بار ہوئی

Abrar Kashif

46 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on قلی قطب شاہ.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with قلی قطب شاہ's ghazal.