کالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لے اک ذرا دیر کو کمرے ہے وہ ہے وہ اندھیرا کر لے اب مجھے پار اتر جانے دے ایسا کر لے ور لگ جو آئی سمجھ ہے وہ ہے وہ تری دریا کر لے خود ب خود راستہ دے دےگا یہ طوفان مجھے تجھ کو پانے کا ا گر دل یہ ارادہ کر لے آج کا کام تجھے آج ہی کرنا ہوگا کل جو کرنا ہے تو پھروں آج تقاضا کر لے اب بڑے لوگوں سے اچھائی کی امید لگ کر کیسے ممکن ہے کریلا کوئی میٹھا کر لے گر کبھی رونا ہی پڑ جائے تو اتنا رونا آ کے برسات تری سامنے توبہ کر لے مدتوں بعد حقیقت آئےگا ہمارے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں سے اے دل کسی امید کو زندہ کر لے ہم سفر لیلیٰ بھی ہوں گی ہے وہ ہے وہ تبھی جاؤں گا مجھ پہ جتنے بھی ستم کرنے ہوں صحرا کر لے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Munawwar Rana
مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے
Munawwar Rana
5 likes
دنیا تری رونق سے میں اب اوب رہا ہوں تو چاند مجھے کہتی تھی میں ڈوب رہا ہوں اب کوئی شناسا بھی دکھائی نہیں دیتا برسوں میں اسی شہر کا محبوب رہا ہوں میں خواب نہیں آپ کی آنکھوں کی طرح تھا میں آپ کا لہجہ نہیں اسلوب رہا ہوں رسوائی مری نام سے بادہ آشامی رہی ہے میں خود کہاں رسوائی سے بادہ آشامی رہا ہوں سچائی تو یہ ہے کہ تری فسوں گروں میں اک وہ بھی زمانہ تھا کہ میں خوب رہا ہوں اس شہر کے پتھر بھی گواہی مری دیں گے صحرا بھی بتا دےگا کہ مجبوب رہا ہوں دنیا مجھے ساحل سے کھڑی دیکھ رہی ہے میں ایک جزیرے کی طرح ڈوب رہا ہوں شہرت مجھے ملتی ہے تو چپ چاپ کھڑی رہ رسوائی میں تجھ سے بھی تو بادہ آشامی رہا ہوں پھینک آئے تھے مجھ کو بھی مری بھائی کوئیں میں میں دل پامال میں بھی حضرت ایوب رہا ہوں
Munawwar Rana
1 likes
ساری دولت تری قدموں ہے وہ ہے وہ پڑی لگتی ہے تو ج ہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہے ایسے رویا تھا بچھڑتے ہوئے حقیقت بے وجہ کبھی چنو ساون کے مہینے ہے وہ ہے وہ جھڑی لگتی ہے ہم بھی اپنے کو بدل ڈالیںگے رفتہ رفتہ ابھی دنیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنت سے بڑی لگتی ہے خوشنما لگتے ہیں دل پر تری زخموں کے نشان بیچ دیوار ہے وہ ہے وہ ج سے طرح گھڑی لگتی ہے تو مری ساتھ ا گر ہے تو اندھیرا کیسا رات خود چاند ستاروں سے جڑی لگتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ر ہوں یا لگ ر ہوں نام رہے گا میرا زندگی عمر ہے وہ ہے وہ کچھ مجھ سے بڑی لگتی ہے
Munawwar Rana
5 likes
بھلا پانا بے حد مشکل ہے سب کچھ یاد رہتا ہے محبت کرنے والا ا سے لیے برباد رہتا ہے ا گر سونے کے پنجرے ہے وہ ہے وہ بھی رہتا ہے تو قی گرا ہے پرندہ تو وہی ہوتا ہے جو آزاد رہتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ گھومنے پھرنے کے کچھ صاحب کردار ہوتے ہیں ادھر ہرگز نہیں جانا ادھر صیاد رہتا ہے لپٹ جاتی ہے سارے راستوں کی یاد بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جدھر سے بھی گزرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رستہ یاد رہتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اپنے اچھے دن ابھی تک یاد ہیں را لگ ہر اک انسان کو اپنا زما لگ یاد رہتا ہے
Munawwar Rana
4 likes
ہے وہ ہے وہ ا سے سے پہلے کہ رونق صحرا ادھر ادھر ہوں جاؤں مجھے سنبھال لے ممکن ہے در بدر ہوں جاؤں یہ آب و تاب جو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے سب اسی سے ہے ا گر حقیقت چھوڑ دے مجھ کو تو ہے وہ ہے وہ کھنڈر ہوں جاؤں مری مدد سے کھجوروں کی توڑے پکنے لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں کہ صحرا کی دوپہر ہوں جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے کے موسم سے ہوں تر و تازہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے جھونڈ سے نکلوں تو بے ثمر ہوں جاؤں بڑی عجیب سی حدت ہے ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہے وہ ہے وہ چھو لوں پسینے سے تر ب تر ہوں جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچی مٹی کی صورت ہوں تری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے تو ڈھال دے ایسے کہ معتبر ہوں جاؤں بچی کچھی ہوئی سانسوں کے ساتھ پہنچانا سنو ہواؤں ا گر ہے وہ ہے وہ شکستہ پر ہوں جاؤں
Munawwar Rana
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Munawwar Rana.
Similar Moods
More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.







