ghazalKuch Alfaaz

کب پانی گرنے سے خوشبو فوٹی ہے مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے ایک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی ایک رسی ڈھیلی پڑھنے لگیں پر ٹوٹی ہے ہاتھ ملانے پر بھی ا سے پہ کھلا نہیں یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے ا سے کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو سیمنٹ کی دیوار سے کوپل فوٹی ہے ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے یوں لگتا ہے دین و دنیا چھوٹ گئے مجھ سے تری شہر کی ب سے کیا چھوٹی ہے

Tehzeeb Hafi90 Likes

Related Ghazal

کل شب لبا سے ا سے نے جو پہنا گلاب کا خوشبو گلاب کی کہی چرچا گلاب کا دیکھی حسین لوگوں کی اولاد بھی حسین پودھے سے اگتا دیکھا ہے پودا گلاب کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا گلاب توڑنے والوں کے شہر سے اور اس کا کو چاہیے تھا بگیچا گلاب کا سنتے ہوں آج ٹوٹ گیا تو لاڈلے کا دل اب ا سے کے آگے ذکر لگ کرنا گلاب کا

Kushal Dauneria

30 likes

شکر ہے حقیقت نظر تو آنے لگی یہ اداسی کہی ٹھکانے لگی چھپ کے ملنا بھی رائےگاں ہی گیا تو ا سے کی خوشبو بدن سے آنے لگی تو مجھے روک بھی نہیں رہا ہے اور یہ ب سے بھی دور جانے لگی پہلے تو دور رکھا دل سے مجھے پھروں حقیقت خود راستہ دکھانے لگی

Kafeel Rana

21 likes

یوں اپنی پیا سے کی خود ہی کہانی لکھ رہے تھے ہم سلگتی ریت پہ انگلی سے پانی لکھ رہے تھے ہم میاں ب سے موت ہی سچ ہے و ہاں یہ لکھ گیا تو کوئی ج ہاں پر زندگانی زندگانی لکھ رہے تھے ہم ملے تجھ سے تو دنیا کو سہانی لکھ دیا ہم نے وگر لگ کب سے ا سے کو بے معنی لکھ رہے تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ گر پڑی کل رات حقیقت دیوار رو رو کر کہ ج سے پہ اپنے ماضی کی کہانی لکھ رہے تھے ہم

Varun Anand

27 likes

ا سے کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہی ٹالنے سے ٹلتے ہیں بند ہے مے کدوں کے دروازے ہم تو ب سے یوںہی چل نکلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب ج سے طرح بہلتے ہیں حقیقت ہے جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو بھی خوش ہے ہم ا سے سے جلتے ہیں ہے اسے دور کا سفر در سانحے ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں شام فرقت کی لہلہا اٹھی حقیقت ہوا ہے کہ زخم بھرتے ہیں ہے غضب فیصلے کا صحرا بھی چل لگ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں ہوں رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں جاناں بنو رنگ جاناں بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن ہے وہ ہے وہ ڈھلتے ہیں

Jaun Elia

30 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

More from Tehzeeb Hafi

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے نظروں گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ ا سے کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

48 likes

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلنے پہ بھی منجملہ و اسباب ماتم نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب کرنا ہوں سفر کرنا ہوں یا رونا ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب بھلا اپنے لیے بننا سنورنا کیسا خود سے ملنا ہوں تو تیار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون آئےگا بھلا میری عیادت کے لیے بس اسی خوف سے بیمار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل عشق پہ نکلا تو کہا رستے نے ہر کسی کے لیے خوددار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری تصویر سے تسکین نہیں ہوتی مجھے تیری آواز سے مخمور نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ کہتے ہیں ہے وہ ہے وہ بارش کی طرح ہوں حافی 9 اوقات لگاتار نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ

Tehzeeb Hafi

35 likes

جب ا سے کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے اور پھروں ہے وہ ہے وہ بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا

Tehzeeb Hafi

24 likes

جانے والے سے رابطہ رہ جائے گھر کی دیوار پر دیا رہ جائے اک نظر جو بھی دیکھ لے تجھ کو حقیقت تری خواب دیکھتا رہ جائے اتنی گرہیں لگی ہیں ا سے دل پر کوئی کھولے تو کھولتا رہ جائے کوئی کمرے ہے وہ ہے وہ آگ تاپتا ہوں کوئی بارش ہے وہ ہے وہ بھیگتا رہ جائے نیند ایسی کہ رات کم پڑ جائے خواب ایسا کہ منا کھلا رہ جائے جھیل سیف الملک پر جاؤں اور کمرے ہے وہ ہے وہ کیمرا رہ جائے

Tehzeeb Hafi

38 likes

رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی دھند ہے وہ ہے وہ روشنی مدھیم نہیں رکھی جاتی کیسے دریا کی حفاظت تری ذمہ ٹھہراؤ تجھ سے اک آنکھ ا گر نمہ نہیں رکھی جاتی ا سے لیے چھوڑ کر جانے لگے سب چارا گر زخم سے عزت مرہم نہیں رکھی جاتی ایسے کیسے ہے وہ ہے وہ تجھے چاہنے لگ جاؤں بھلا گھر کی بنیاد تو یکدم نہیں رکھی جاتی

Tehzeeb Hafi

25 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.