कभी कभी यूँँ भी हम ने अपने जी को बहलाया है जिन बातों को ख़ुद नहीं समझे औरों को समझाया है हम से पूछो इज़्ज़त वालों की इज़्ज़त का हाल कभी हम ने भी इक शहर में रह कर थोड़ा नाम कमाया है उस को भूले बरसों गुज़रे लेकिन आज न जाने क्यूँँ आँगन में हँसते बच्चों को बे-कारन धमकाया है उस बस्ती से छुट कर यूँँ तो हर चेहरे को याद किया जिस से थोड़ी सी अन-बन थी वो अक्सर याद आया है कोई मिला तो हाथ मिलाया कहीं गए तो बातें कीं घर से बाहर जब भी निकले दिन भर बोझ उठाया है
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو
Nida Fazli
1 likes
انسان ہے وہ ہے وہ ہیوان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی اللہ نگہبان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی خون خوار درندوں کے فقط نام ا پیش ہیں ہر شہر بیابان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی ہندو بھی سکون سے ہے مسلماناں بھی سکون سے انسان پریشان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی رحمان کی رحمت ہوں کہ بھگوان کی مورت ہر کھیل کا میدان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی اٹھتا ہے دل و جاں سے دھواں دونوں طرف ہی یہ میر کا دیوان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی
Nida Fazli
1 likes
یوں لگ رہا ہے چنو کوئی آ سے پا سے ہے حقیقت کون ہے جو ہے بھی نہیں اور ادا سے ہے ممکن ہے لکھنے والے کو بھی یہ خبر لگ ہوں قصے ہے وہ ہے وہ جو نہیں ہے وہی بات خاص ہے مانے لگ مانے کوئی حقیقت تو ہے یہی چرخہ ہے ج سے کے پا سے اسی کی کپا سے ہے اتنا بھی بن سنور کے لگ نکلا کرے کوئی لگتا ہے ہر لبا سے ہے وہ ہے وہ حقیقت بے لبا سے ہے چھوٹا بڑا ہے پانی خود اپنے حساب سے اتنی ہی ہر ن گرا ہے ی ہاں جتنی پیا سے ہے
Nida Fazli
1 likes
دکھ ہے وہ ہے وہ نیر بہا دیتے تھے سکھ ہے وہ ہے وہ ہنسنے لگتے تھے سیدھے سادے لوگ تھے لیکن کتنے اچھے لگتے تھے خوبصورت چڑھتی آندھی جیسی پیار چراغ دیر و کعبہ چشموں سا بیری ہوں یا سنگی ساتھی سارے اپنے لگتے تھے بہتے پانی دکھ سکھ بانٹیں پیڑ بڑے بوڑھوں چنو بچوں کی آہٹ سنتے ہی کھیت لہکنے لگتے تھے ندی پربت چاند نگاہیں جپا ایک کئی دانے چھوٹے چھوٹے سے آنگن بھی کوسوں پھیلے لگتے تھے
Nida Fazli
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







