غصہ حسن ہے حسن غصہ سے باہر ازل کا رنگ ہے چنو مثال سے باہر تو پھروں حقیقت کون ہے جو ماورا ہے ہر اجازت سے نہیں ہے کچھ بھی ی ہاں گر خیال سے باہر یہ کائنات سرپا جواب ہے ج سے کا حقیقت اک سوال ہے پھروں بھی سوال سے باہر ہے یاد اہل وطن یوں کہ ریگ ساحل پر گری ہوئی کوئی مچھلی ہوں جال سے باہر عجیب سلسلہ رنگ ہے تمنا بھی حد عروج سے آگے زوال ہے باہر لگ ا سے کا انت ہے کوئی لگ استعارہ ہے یہ داستان ہے ہجر و وصال سے باہر دعا بزرگوں کی رکھتی ہے زخم الفت کو کسی علاج کسی اندیمال سے باہر بیاں ہوں ک سے طرح حقیقت کیفیت کہ ہے امجد مری طلب سے فراواں مجال سے باہر
Related Ghazal
ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا
Tehzeeb Hafi
183 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
مہینوں بعد دفترون آ رہے ہیں ہم ایک صدمے سے باہر آ رہے ہیں تیری با ہوں سے دل اکتا گیا تو ہیں اب ا سے جھولے ہے وہ ہے وہ چکر آ رہے ہیں ک ہاں سویا ہے چوکیدار میرا یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں سمندر کر چکا تسلیم ہم کو خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں یہی ایک دن بچا تھا دیکھنے کو اسے ب سے ہے وہ ہے وہ بٹھا کر آ رہے ہیں
Tehzeeb Hafi
116 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Amjad Islam Amjad
یاد کے صحرا ہے وہ ہے وہ کچھ تو زندگی آئی نظر سوچتا ہوں اب بنا لوں ریت سے ہی کوئی گھر ک سے دودمان یادیں ابھر آئی ہیں تری نام سے ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور سمے کے اندھے کوئیں ہے وہ ہے وہ پل رہی ہے زندگی اے مری حسن تخیل بام سے نیچے اتر تو اسیر آبرو شیوہ پندار حسن ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرفتار نگاہ زندگی مختصر ضبط کے قریے ہے وہ ہے وہ امجد دیکھیے کیسے کٹے سوچ کی سونی سڑک پر یاد کا لمبا سفر
Amjad Islam Amjad
0 likes
پردے ہے وہ ہے وہ لاکھ پھروں بھی نمودار کون ہے ہے ج سے کے دم سے گرمی بازار کون ہے حقیقت سامنے ہے پھروں بھی دکھائی لگ دے سکے مری اور ا سے کے بیچ یہ دیوار کون ہے باغ وفا ہے وہ ہے وہ ہوں نہیں سکتا یہ فیصلہ صیاد یاں پہ کون گرفتار کون ہے مانا نظر کے سامنے ہے بے شمار دھند ہے دیکھنا کہ دھند کے ا سے پار کون ہے کچھ بھی نہیں ہے پا سے پہ رہتا ہے پھروں بھی خوش سب کچھ ہے ج سے کے پا سے حقیقت بیزار کون ہے یوں تو دکھائی دیتے ہیں اسرار ہر طرف کھلتا نہیں کہ صاحب اسرار کون ہے امجد ا پیش سی آپ نے کھولی ہے جو دکان کسانوں و ناپاکی کا یاں یہ خریدار کون ہے
Amjad Islam Amjad
0 likes
اگرچہ کوئی بھی اندھا نہیں تھا لکھا دیوار کا پڑھتا نہیں تھا کچھ ایسی برف تھی ا سے کی نظر ہے وہ ہے وہ ہے وہ گزرنے کے لیے رستہ نہیں تھا تمہیں نے کون سی اچھائی کی ہے چلو مانا کہ ہے وہ ہے وہ اچھا نہیں تھا کھلی آنکھوں سے ساری عمر دیکھا اک ایسا خواب جو اپنا نہیں تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ تھا اکیلا کسی نے بھی مجھے دیکھا نہیں تھا سحر کے سمے کیسے چھوڑ جاتا تمہاری یاد تھی سپنا نہیں تھا کھڑی تھی رات کھڑکی کے سرہانے دریچے ہے وہ ہے وہ حقیقت چاند اترا نہیں تھا دلوں ہے وہ ہے وہ گرنے والے خوشی چنتا کہی اک ہائل ایسا نہیں تھا کچھ ایسی دھوپ تھی ان کے سروں پر خدا چنو غریبوں کا نہیں تھا ابھی حرفوں ہے وہ ہے وہ رنگ آتے ک ہاں سے ابھی ہے وہ ہے وہ نے اسے لکھا نہیں تھا تھی پوری شکل ا سے کی یاد مجھ کو م گر ہے وہ ہے وہ نے اسے دیکھا نہیں تھا برہ لگ خواب تھے سورج کے نیچے کسی امید کا پردہ نہیں تھا ہے امجد آج تک حقیقت بے وجہ دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ جو ا سے سمے بھی میرا نہی
Amjad Islam Amjad
0 likes
اوروں کا تھا نقص تو موج صدا رہے خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے مثل حباب بہر غم حوادث ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے ہم اس کا سے اپنی بات کا مانگے اگر جواب لہروں کا پیچ و خم حقیقت کھڑا دیکھتا رہے آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی ہم سوچتے تھے اس کا سے کبھی سامنا رہے گلشن ہے وہ ہے وہ تھے تو رونق رنگ چمن بنے جنگل ہے وہ ہے وہ ہم امانت باد صبا رہے سرخی بنے تو خون شہیداں کا رنگ تھے روشن ہوئے تو مشعل راہ بقا رہے امجد در نگار پہ دستک ہی دیجیے اس کا کا بے کراں سکوت ہے وہ ہے وہ کچھ غلغلا رہے
Amjad Islam Amjad
0 likes
आईनों में अक्स न हों तो हैरत रहती है जैसे ख़ाली आँखों में भी वहशत रहती है हर दम दुनिया के हंगा में घेरे रखते थे जब से तेरे ध्यान लगे हैं फ़ुर्सत रहती है करनी है तो खुल के करो इंकार-ए-वफ़ा की बात बात अधूरी रह जाए तो हसरत रहती है शहर-ए-सुख़न में ऐसा कुछ कर इज़्ज़त बन जाए सब कुछ मिट्टी हो जाता है इज़्ज़त रहती है बनते बनते ढह जाती है दिल की हर तामीर ख़्वाहिश के बहरूप में शायद क़िस्मत रहती है साए लरज़ते रहते हैं शहरों की गलियों में रहते थे इंसान जहाँ अब दहशत रहती है मौसम कोई ख़ुशबू ले कर आते जाते हैं क्या क्या हम को रात गए तक वहशत रहती है ध्यान में मेला सा लगता है बीती यादों का अक्सर उस के ग़म से दिल की सोहबत रहती है फूलों की तख़्ती पर जैसे रंगों की तहरीर लौह-ए-सुख़न पर ऐसे 'अमजद' शोहरत रहती है
Amjad Islam Amjad
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.
Similar Moods
More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.







