ghazalKuch Alfaaz

kathin hai rahguzar thodi duur saath chalo bahut kada hai safar thodi duur saath chalo tamam umr kahan koi saath deta hai ye janta huun magar thodi duur saath chalo nashe men chuur huun main bhi tumhen bhi hosh nahin bada maza ho agar thodi duur saath chalo ye ek shab ki mulaqat bhi ghhanimat hai kise hai kal ki khabar thodi duur saath chalo abhi to jaag rahe hain charaghh rahon ke abhi hai duur sahar thodi duur saath chalo tavaf-e-manzil-e-janan hamen bhi karna hai 'faraz' tum bhi agar thodi duur saath chalo kathin hai rahguzar thodi dur sath chalo bahut kada hai safar thodi dur sath chalo tamam umr kahan koi sath deta hai ye jaanta hun magar thodi dur sath chalo nashe mein chur hun main bhi tumhein bhi hosh nahin bada maza ho agar thodi dur sath chalo ye ek shab ki mulaqat bhi ghanimat hai kise hai kal ki khabar thodi dur sath chalo abhi to jag rahe hain charagh rahon ke abhi hai dur sahar thodi dur sath chalo tawaf-e-manzil-e-jaanan hamein bhi karna hai 'faraaz' tum bhi agar thodi dur sath chalo

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Ahmad Faraz

کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں

Ahmad Faraz

6 likes

پھروں اسی رہ گزاری پر شاید ہم کبھی مل سکیں م گر شاید جن کے ہم منتظر رہے ان کو مل گئے اور ہم سفر شاید جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھروں بھی اے دوست غور کر شاید اجنبیت کی دھند چھٹ جائے چمک اٹھے تری نظر شاید زندگی بھر لہو رلائےگی یاد یاران بے خبر شاید جو بھی بچھڑے حقیقت کب ملے ہیں فراز پھروں بھی تو انتظار کر شاید

Ahmad Faraz

4 likes

دل بدن کا شریک حال ک ہاں ہجر پھروں ہجر ہے وصال ک ہاں عشق ہے نام انتہاؤں کا ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ اعتدال ک ہاں ایسا نشاط و زہر ہے وہ ہے وہ بھی لگ تھا اے غم دل تری مثال ک ہاں ہم کو بھی اپنی پائمالی کا ہے م گر ا سے دودمان ملال کہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نئی دوستی کے موڑ پہ تھا آ گیا تو ہے ترا خیال کہا دل کہ خوش فہم تھا سو ہے ور لگ تری ملنے کا احتمال ک ہاں وصل و ہجران ہیں اور دنیاہیں ان زمانوں ہے وہ ہے وہ ماہ و سال ک ہاں تجھ کو دیکھا تو لوگ حیران ہیں آ گیا تو شہر ہے وہ ہے وہ غزال ک ہاں تجھ پہ لکھی تو سج گئی ہے غزل آ ملا خواب سے خیال ک ہاں اب تو شہ مات ہوں رہی ہے فراز اب بچاؤ کی کوئی چال ک ہاں

Ahmad Faraz

1 likes

کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے

Ahmad Faraz

3 likes

قربتوں ہے وہ ہے وہ بھی جدائی کے زمانے مانگے دل حقیقت بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم لگ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانی مانگے زندگی ہم تری داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ صدا آئی لگ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فراز مل گئے جاناں بھی تو کیا اور لگ جانے مانگے

Ahmad Faraz

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.