ghazalKuch Alfaaz

khafa hona zara si baat par talvar ho jaana magar phir khud-ba-khud vo aap ka gulnar ho jaana kisi din meri rusvai ka ye karan na ban jaae tumhara shahr se jaana mira bimar ho jaana vo apna jism saara saunp dena meri ankhon ko miri padhne ki koshish aap ka akhbar ho jaana kabhi jab andhiyan chalti hain ham ko yaad aata hai hava ka tez chalna aap ka divar ho jaana bahut dushvar hai mere liye us ka tasavvur bhi bahut asan hai us ke liye dushvar ho jaana kisi ki yaad aati hai to ye bhi yaad aata hai kahin chalne ki zid karna mira tayyar ho jaana kahani ka ye hissa ab bhi koi khvab lagta hai tira sar par bitha lena mira dastar ho jaana mohabbat ik na ik din ye hunar tum ko sikha degi baghhavat par utarna aur khud-mukhtar ho jaana nazar nichi kiye us ka guzarna paas se mere zara si der rukna phir saba-raftar ho jaana khafa hona zara si baat par talwar ho jaana magar phir khud-ba-khud wo aap ka gulnar ho jaana kisi din meri ruswai ka ye karan na ban jae tumhaara shahr se jaana mera bimar ho jaana wo apna jism sara saunp dena meri aankhon ko meri padhne ki koshish aap ka akhbar ho jaana kabhi jab aandhiyan chalti hain hum ko yaad aata hai hawa ka tez chalna aap ka diwar ho jaana bahut dushwar hai mere liye us ka tasawwur bhi bahut aasan hai us ke liye dushwar ho jaana kisi ki yaad aati hai to ye bhi yaad aata hai kahin chalne ki zid karna mera tayyar ho jaana kahani ka ye hissa ab bhi koi khwab lagta hai tera sar par bitha lena mera dastar ho jaana mohabbat ek na ek din ye hunar tum ko sikha degi baghawat par utarna aur khud-mukhtar ho jaana nazar nichi kiye us ka guzarna pas se mere zara si der rukna phir saba-raftar ho jaana

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

More from Munawwar Rana

ایسا لگتا ہے کہ کر دےگا اب آزاد مجھے میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں سرحد پہ بنے ایک مکان کی صورت کب تلک دیکھیے رکھتا ہے حقیقت آباد مجھے ایک قصے کی طرح حقیقت تو مجھے بھول گیا تو اک کہانی کی طرح حقیقت ہے مگر یاد مجھے کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھ جاتا ہوں اس کا ہے وہ ہے وہ کوئی کمزوری ہے میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے

Munawwar Rana

1 likes

مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے

Munawwar Rana

5 likes

دنیا تری رونق سے میں اب اوب رہا ہوں تو چاند مجھے کہتی تھی میں ڈوب رہا ہوں اب کوئی شناسا بھی دکھائی نہیں دیتا برسوں میں اسی شہر کا محبوب رہا ہوں میں خواب نہیں آپ کی آنکھوں کی طرح تھا میں آپ کا لہجہ نہیں اسلوب رہا ہوں رسوائی مری نام سے بادہ آشامی رہی ہے میں خود کہاں رسوائی سے بادہ آشامی رہا ہوں سچائی تو یہ ہے کہ تری فسوں گروں میں اک وہ بھی زمانہ تھا کہ میں خوب رہا ہوں اس شہر کے پتھر بھی گواہی مری دیں گے صحرا بھی بتا دےگا کہ مجبوب رہا ہوں دنیا مجھے ساحل سے کھڑی دیکھ رہی ہے میں ایک جزیرے کی طرح ڈوب رہا ہوں شہرت مجھے ملتی ہے تو چپ چاپ کھڑی رہ رسوائی میں تجھ سے بھی تو بادہ آشامی رہا ہوں پھینک آئے تھے مجھ کو بھی مری بھائی کوئیں میں میں دل پامال میں بھی حضرت ایوب رہا ہوں

Munawwar Rana

1 likes

ساری دولت تری قدموں ہے وہ ہے وہ پڑی لگتی ہے تو ج ہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہے ایسے رویا تھا بچھڑتے ہوئے حقیقت بے وجہ کبھی چنو ساون کے مہینے ہے وہ ہے وہ جھڑی لگتی ہے ہم بھی اپنے کو بدل ڈالیںگے رفتہ رفتہ ابھی دنیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنت سے بڑی لگتی ہے خوشنما لگتے ہیں دل پر تری زخموں کے نشان بیچ دیوار ہے وہ ہے وہ ج سے طرح گھڑی لگتی ہے تو مری ساتھ ا گر ہے تو اندھیرا کیسا رات خود چاند ستاروں سے جڑی لگتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ر ہوں یا لگ ر ہوں نام رہے گا میرا زندگی عمر ہے وہ ہے وہ کچھ مجھ سے بڑی لگتی ہے

Munawwar Rana

5 likes

کسی غریب کی برسوں کی آرزو ہوں جاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سرنگ سے نکلوں تو آب جو ہوں جاؤں بڑا حسین تقد سے ہے ا سے کے چہرے پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانکوں تو باوضو ہوں جاؤں مجھے پتا تو چلے مجھ ہے وہ ہے وہ عیب ہیں کیا کیا حقیقت آئی لگ ہے تو ہے وہ ہے وہ ا سے کے رو برو ہوں جاؤں کسی طرح بھی یہ ویرانیاں ہوں ختم مری شراب خانے کے اندر کی ہاو ہوں جاؤں مری ہتھیلی پہ ہونٹوں سے ایسی مہر لگا کہ عمر بھر کے لیے ہے وہ ہے وہ بھی سرخ رو ہوں جاؤں کمی ذرا سی بھی مجھ ہے وہ ہے وہ لگ کوئی رہ جائے ا گر ہے وہ ہے وہ زخم کی صورت ہوں تو رفو ہوں جاؤں نئے مزاج کے شہروں ہے وہ ہے وہ جی نہیں لگتا پرانی وقتوں کا پھروں سے ہے وہ ہے وہ چھوڑنا ہوں جاؤں

Munawwar Rana

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Munawwar Rana.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.