خاموش ہوں کیوں داد کہوں کیوں نہیں دیتے بسم اللہ ہوں تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارگرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہوں ا گر جاناں تو کب انصاف کروگے مجرم ہیں ا گر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے رہزن ہوں تو حاضر ہے متا دل و جاں بھی رہبر ہوں تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے کیا بیت گئی اب کے فراز اہل چمن پر یاران قف سے مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Ahmad Faraz
ا سے کو جدا ہوئے بھی زما لگ بے حد ہوا اب کیا کہی یہ قصہ پرانا بے حد ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعات کا فسا لگ بے حد ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی ا سے سے ذرا سا ربط بڑھانا بے حد ہوا اب کیوں لگ زندگی پہ محبت کو وار دیں ا سے کرنے والے ہے وہ ہے وہ جان سے جانا بے حد ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف لگ ہوں سکا مانا کہ ا سے سے ملنا ملانا بے حد ہوا کیا کیا لگ ہم خراب ہوئے ہیں م گر یہ دل اے یاد یار تیرا ہری بے حد ہوا کہتا تھا ناصحوں سے مری منا لگ آئ یوں پھروں کیا تھا ایک ہوں کا بہانا بے حد ہوا لو پھروں تری لبوں پہ اسی بےوفا کا ذکر احمد فراز تجھ سے کہا لگ بے حد ہوا
Ahmad Faraz
8 likes
کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں
Ahmad Faraz
6 likes
کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے
Ahmad Faraz
6 likes
عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا خبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا یہ کون پھروں سے انہی راستوں میں چھوڑ گیا ابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اترا کوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا تھا یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہے یہی دھواں مری دیوار و در سے نکلا تھا میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا کہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا یہ اب جو سر ہیں خمیدہ کلاہ کی خاطر یہ عیب بھی تو ہم اہل ہنر سے نکلا تھا وہ قیس اب جسے مجنوں پکارتے ہیں فراز تیری طرح کوئی دیوانہ گھر سے نکلا تھا
Ahmad Faraz
3 likes
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہوں چنو تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہوں چنو اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں راستے ہے وہ ہے وہ کوئی دیوار کھڑی ہوں چنو کتنے نادان ہیں تری بھولنے والے کہ تجھے یاد کرنے کے لیے عمر پڑی ہوں چنو تری ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی م گر یہ گرہ اب کے مری دل ہے وہ ہے وہ پڑی ہوں چنو منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں اپنے ہی پاؤں ہے وہ ہے وہ زنجیر پڑی ہوں چنو آج دل کھول کے روئے ہیں تو یوں خوش ہیں فراز چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہوں چنو
Ahmad Faraz
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







