ghazalKuch Alfaaz

खेल दोनों का चले तीन का दाना न पड़े सीढ़ियाँ आती रहें साँप का ख़ाना न पड़े देख में'मार परिंदे भी रहें घर भी बने नक़्शा ऐसा हो कोई पेड़ गिराना न पड़े मेरे होंटों पे किसी लम्स की ख़्वाहिश है शदीद ऐसा कुछ कर मुझे सिगरेट को जलाना न पड़े इस तअल्लुक़ से निकलने का कोई रास्ता दे इस पहाड़ी पे भी बारूद लगाना न पड़े नम की तर्सील से आँखों की हरारत कम हो सर्द-ख़ानों में कोई ख़्वाब पुराना न पड़े रब्त की ख़ैर है बस तेरी अना बच जाए इस तरह जा कि तुझे लौट के आना न पड़े हिज्र ऐसा हो कि चेहरे पे नज़र आ जाए ज़ख़्म ऐसा हो कि दिख जाए दिखाना न पड़े

Umair Najmi17 Likes

Related Ghazal

حقیقت نہیں میرا م گر ا سے سے محبت ہے تو ہے یہ ا گر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو ہے وہ ہے وہ نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا اب زمانے کی نظر ہے وہ ہے وہ یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا ہے وہ ہے وہ نے کہ حقیقت مل جائے مجھ کو ہے وہ ہے وہ اسے غیر لگ ہوں جائے حقیقت ب سے اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا تو پروا لگ گر تو کیا غلطیاں ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا ا سے کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا حقیقت ستاتا ہے مجھے پھروں بھی ا سے ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسمان دوریوں کے بعد بھی دونوں ہے وہ ہے وہ قربت ہے تو ہے

Deepti Mishra

29 likes

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

کون آئےگا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس کا کا گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا حقیقت پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی ہے وہ ہے وہ لکھا تھا اندھیرا شاید ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو آندھیوں جاناں نے درختوں کو گرایا ہوگا کھیلنے کے لیے بچے نکل آئی ہوں گے چاند اب اس کا کی گلی ہے وہ ہے وہ اتر آیا ہوگا کیف پردیس ہے وہ ہے وہ مت یاد کروں اپنا مکان اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

Kaif Bhopali

20 likes

نہیں ہے منہسیر ا سے بات پر یاری ہماری کے تو کرتا رہے ناحق طرفداری ہماری اندھیرے ہے وہ ہے وہ ہمیں رکھنا تو خموشی سے رکھنا کہی منجملہ و اسباب ماتم نا ہوں جائے بیداری ہماری م گر اچھا تو یہ ہوتا ہم ایک ساتھ رہتے بھری رہتی تری کپڑو سے الماری ہماری ہم آسانی سے کھل جائے م گر ایک مسئلہ ہے تمہاری سطح سے اوپر ہے تہداری ہماری کہانیکار نے کردار ہی ایسا دیا ہے اداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری ہمیں جیتے چلے جانے پر مائل کرنے والی یہا کوئی نہیں لیکن سخنکاری ہماری

Jawwad Sheikh

26 likes

ذہن پر زور دینے سے بھی یاد نہیں آتا کہ ہم کیا دیکھتے تھے صرف اتنا پتا ہے کہ ہم آم لوگوں سے بلکل جدا دیکھتے تھے تب ہمیں اپنے پرکھوں سے ورثے ہے وہ ہے وہ آئی ہوئی بد دعا یاد آئی جب کبھی اپنی آنکھوں کے آگے تجھے شہر جاتا ہوا دیکھتے تھے سچ بتائیں تو تیری محبت نے خود پر برق دلائی ہماری تو ہمیں چومتا تھا تو گھر جا کے ہم دیر تک آئینہ دیکھتے تھے سارا دن ریت کے گھر بناتے ہوئے اور گرتے ہوئے بیت جاتا شام ہوتے ہی ہم دوربینوں ہے وہ ہے وہ اپنی چھتوں سے خدا دیکھتے تھے اس کا کا لڑائی ہے وہ ہے وہ دونوں طرف کچھ سپاہی تھے جو نیند ہے وہ ہے وہ بولتے تھے جنگ ٹلتی نہیں تھی سروں سے مگر خواب ہے وہ ہے وہ فاختہ دیکھتے تھے دوست کس کو پتا ہے کہ وقت اس کا کی آنکھوں سے پھروں کس طرح پیش آیا ہم اکٹھے تھے ہنستے تھے روتے تھے اک دوسرے کو بڑا دکھتے تھے

Tehzeeb Hafi

55 likes

More from Umair Najmi

اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا

Umair Najmi

10 likes

جاناں اس کا خرابے ہے وہ ہے وہ چار چھے دن ٹہل گئی ہوں سو این ممکن ہے دل کی حالت بدل گئی ہوں تمام دن اس کا دعا ہے وہ ہے وہ کٹتا ہے کچھ دنوں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاؤں کمرے ہے وہ ہے وہ تو اداسی نکل گئی ہوں کسی کے آنے پہ ایسے ہلچل ہوئی ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاموش جنگل ہے وہ ہے وہ چنو خیروخواہ چل گئی ہوں یہ نہ ہوں گر ہے وہ ہے وہ ہلوں تو گرنے لگے برادہ دکھوں کی دیمک بدن کی لکڑی نگل گئی ہوں یہ چھوٹے چھوٹے کئی حوادث جو ہوں رہے ہیں کسی کے سر سے بڑی مصیبت نہ ٹل گئی ہوں ہمارا ملبا ہمارے قدموں ہے وہ ہے وہ آ گرا ہے پلیٹ ہے وہ ہے وہ چنو موم بتی پگھل گئی ہوں

Umair Najmi

10 likes

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نمہ بنےگا یہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات مری گریے سے کم بنےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشت ہوں یہ مغالطہ ہے لگ شاعرا لگ مبالغہ ہے مری بدن پر کہی قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنےگا ہمارا لاشہ بہاؤ ور لگ لحد مقد سے مزار ہوں گی یہ سرخ کرتا جلاؤ ور لگ بغاوتوں کا الم بنےگا تو کیوں لگ ہم پانچ سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبل مری چھٹی ح سے بتا رہی ہے یہ رشتہ ٹوٹےگا غم بنےگا مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پن قدرتی ہے سو اعتراض کیسا شدید نمہ خاک سے جو پیکر بنےگا یہ طے ہے خم بنےگا سنا ہوا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ بے کار کچھ نہیں ہے سو جی رہے ہیں بنا ہوا ہے یقین کہ ا سے رائگانی سے کچھ اہم بنےگا کہ شہزادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی ا سے پر متفق ہیں یہ جوں ہی حاکم بنا محل کا وسیع رقبہ حرم بنےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپنا صدا کے وقفے نکال ا سے کو شروع سے سن ردم بنےگا سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو حقیقت شعبدہ باز پلٹنے والوں سے کہ رہا تھا رکو خدا کی قسم بنےگا

Umair Najmi

6 likes

یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری

Umair Najmi

59 likes

مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہے پرندے قید ہیں جاناں چہچہاہٹ چاہتے ہوں تمہیں تو اچھا خاصہ نفسیاٹی مسئلہ ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا جنوں درکار ہے تھوڑا سکون بھی ہماری نسل ہے وہ ہے وہ اک جینیاتی مسئلہ ہے بڑی مشکل ہے مشعل جاں سلسلے ہے وہ ہے وہ یہ بناو ہمارے رابطوں کی بے ثباتی مسئلہ ہے حقیقت کہتے ہیں کہ جو ہوگا حقیقت آگے جا کے ہوگا تو یہ دنیا بھی کوئی تجرباتی مسئلہ ہے ہمارا وصل بھی تھا اتفاقی مسئلہ تھا ہمارا ہجر بھی ہے خو گر ضبط مسئلہ ہے

Umair Najmi

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Umair Najmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Umair Najmi's ghazal.