ghazalKuch Alfaaz

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے حقیقت باطن ہے مجھے جھوٹے در و دیوار شیوہ ارباب فن نہیں آتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دریا ہوں م گر بہتا ہوں ہے وہ ہے وہ کوہسار کی جانب مجھے دنیا کی پستی ہے وہ ہے وہ اتر جانا نہیں آتا زر و مال و جواہر لے بھی اور ٹھکرا بھی سکتا ہوں کوئی دل پیش کرتا ہوں تو ٹھکرانا نہیں آتا پرندہ جانب دانا ہمیشہ اڑ کے آتا ہے پرندے کی طرف اڑ کر کبھی دا لگ نہیں آتا ا گر صحرا ہے وہ ہے وہ ہیں تو آپ خود آئی ہیں صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے گھر تو چل کر کوئی ویرا لگ نہیں آتا ہوا ہے جو صدا ا سے کو نصیبوں کا لکھا سمجھا عدیم اپنے کیے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Adeem Hashmi

تری لیے چلے تھے ہم تری لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تری بھی دن گزر گئے مری بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں جانے حقیقت تو کدھر گیا تو جانے حقیقت ہم کدھر گئے را ہوں ہے وہ ہے وہ ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں حقیقت بھی لگ اپنے گھر گیا تو ہم بھی لگ اپنے گھر گئے سمے ہی جدائی کا اتنا طویل ہوں گیا تو دل ہے وہ ہے وہ تری وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیا سے کا صحرا امڈ امڈ پڑے دریا بفر بفر گئے حقیقت بھی غبار خواب تھا ہم بھی غبار خواب تھے حقیقت بھی کہی بکھر گیا تو ہم بھی کہی بکھر گئے کوئی کنار آبجو بیٹھا ہوا ہے سر نگوں کشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے آج بھی انتظار کا سمے حنوط ہوں گیا تو ایسا لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے بارش وصل حقیقت ہوئی سارا غمدیدہ دھل گیا تو حقیقت بھی نکھر نکھر گیا تو ہم بھی نکھر نکھر گئے آب محیط عشق کا بہر عجیب بہر ہے تری تو غرق ہوں گئے ڈوبے

Adeem Hashmi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Adeem Hashmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Adeem Hashmi's ghazal.