ghazalKuch Alfaaz

kya dukh hai samundar ko bata bhi nahin sakta aansu ki tarah aankh tak aa bhi nahin sakta tu chhod raha hai to khata is men tiri kya har shakhs mira saath nibha bhi nahin sakta pyase rahe jaate hain zamane ke savalat kis ke liye zinda huun bata bhi nahin sakta ghar dhund rahe hain mira raton ke pujari main huun ki charaghhon ko bujha bhi nahin sakta vaise to ik aansu hi baha kar mujhe le jaae aise koi tufan hila bhi nahin sakta kya dukh hai samundar ko bata bhi nahin sakta aansu ki tarah aankh tak aa bhi nahin sakta tu chhod raha hai to khata is mein teri kya har shakhs mera sath nibha bhi nahin sakta pyase rahe jate hain zamane ke sawalat kis ke liye zinda hun bata bhi nahin sakta ghar dhund rahe hain mera raaton ke pujari main hun ki charaghon ko bujha bhi nahin sakta waise to ek aansu hi baha kar mujhe le jae aise koi tufan hila bhi nahin sakta

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Waseem Barelvi

حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے

Waseem Barelvi

6 likes

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے

Waseem Barelvi

10 likes

تحریر سے ور لگ مری کیا ہوں نہیں سکتا اک تو ہے جو لفظوں ہے وہ ہے وہ ادا ہوں نہیں سکتا آنکھوں ہے وہ ہے وہ خیالات ہے وہ ہے وہ سانسوں ہے وہ ہے وہ بسا ہے چاہے بھی تو مجھ سے حقیقت جدا ہوں نہیں سکتا جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑےگا اللہ ری ہوں سمندر سے خفا ہوں نہیں سکتا گمراہ کیے ہوں گے کئی پھول سے جذبے ایسے تو کوئی راہ نما ہوں نہیں سکتا قد میرا بڑھانے کا اسے کام ملا ہے جو اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہوں نہیں سکتا اے پیار تری حصے ہے وہ ہے وہ آیا تری قسمت حقیقت درد جو چہروں سے ادا ہوں نہیں سکتا

Waseem Barelvi

1 likes

صرف تیرا نام لے کر رہ گیا تو آج دیوا لگ بے حد کچھ کہ گیا تو کیا مری تقدیر ہے وہ ہے وہ منزل نہیں فاصلہ کیوں مسکرا کر رہ گیا تو زندگی دنیا ہے وہ ہے وہ ایسا خوشی تھی جو ذرا پلکوں پہ ٹھہرا بہ گیا تو اور کیا تھا ا سے کی پرسش کا جواب اپنے ہی آنسو چھپا کر رہ گیا تو ا سے سے پوچھ اے کامیاب زندگی ج سے کا افسا لگ ادھورا رہ گیا تو ہاں یہ کیا دیوانگی تھی اے مسئلہ جو لگ کہنا چاہیے تھا کہ گیا تو

Waseem Barelvi

2 likes

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا بھی یہی تھا حقیقت بےوفا نکلے کتاب ماضی کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا لگ جانے کون سا دستخط مڑا ہوا نکلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے ملتا تو تفصیل ہے وہ ہے وہ نہیں جاتا مری طرف سے تری دل ہے وہ ہے وہ جانے کیا نکلے جو دیکھنے ہے وہ ہے وہ بے حد ہی قریب لگتا ہے اسی کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچو تو فاصلہ نکلے تمام شہر کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ سرخ شعلے ہیں مسئلہ گھر سے اب ایسے ہے وہ ہے وہ کوئی کیا نکلے

Waseem Barelvi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Waseem Barelvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.