لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے گھبرائیے مجبوری کے لیے غم کی صراحت کے لیے اب میرا چپ چاپ رہنا چشم و گوش و لب صحیح ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کھولی ہی زبان کب تھی شکایت کے لیے مری سخت کوشی سے پوچھ لو سب کچھ یہیں مجھ کو مری سامنے لاؤ شہادت کے لیے علالت سخت جانی کی طرف لائی مجھے مجھ کو یہ فرصت غنیمت ہے شبستان عناصر کے لیے آکسیجن سے زی نف سے تابناک مضطرب ہر زی نف سے ا سے کی رفاقت کے لیے مر گئے کچھ لوگ جینے کا مدوا سوچ کر اور کچھ جیتے رہے جینے کی عادت کے لیے آہ مرگ آدمیت پر آدمی روئے بے حد کوئی بھی رویا لگ رفع کدورت کے لیے کوئی موقع زندگی کا آخری موقع نہیں ا سے دودمان تعجیل کیوں دیر آشنا غم گسار کے لیے استقامت اے مری حسن ندامت ایک آنسو ہے بے حد مے ترنگ کے لیے کوئی ناصر کی غزل کوئی وقار کی شام عیادت چاہیے کچھ تو مری گلشن آباد ج ہاں کے لیے بے چارگی حسرت دیدار ہے وہ ہے وہ صورت شبنم عرو سے بہار ہم ا گر روئے بھی تو رونے کی فرصت کے لیے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے
Tehzeeb Hafi
182 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Hafeez Hoshiarpuri
آج ا نہیں کچھ ا سے طرح جی کھول کر دیکھا کیے ایک ہی لمحے ہے وہ ہے وہ چنو عمر بھر دیکھا کیے دل ا گر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی ج سے دودمان تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کیے خود فروشا لگ ادا تھی مری صورت دیکھنا اپنے ہی رکے بانداز د گر دیکھا کیے نا شنا سے غم فقط داد ہنر دیتے رہے ہم متاع غم کو رسوا ہنر دیکھا کیے دیکھنے کا اب یہ عالم ہے کوئی ہوں یا لگ ہوں ہم جدھر دیکھا کیے پہروں ادھر دیکھا کیے حسن کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے حسن کی خاطر عرو سے بہار ور لگ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کیے
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
कुछ इस तरह से नज़र से गुज़र गया कोई कि दिल को ग़म का सज़ा-वार कर गया कोई दिल-ए-सितम-ज़दा को जैसे कुछ हुआ ही नहीं ख़ुद अपने हुस्न से यूँँ बे-ख़बर गया कोई वो एक जल्वा-ए-सद-रंग इक हुजूम-ए-बहार न जाने कौन था जाने किधर गया कोई नज़र कि तिश्ना-ए-दीदार थी रही महरूम नज़र उठाई तो दिल में उतर गया कोई निगाह-ए-शौक़ की महरूमियों से ना-वाक़िफ़ निगाह-ए-शौक़ पे इल्ज़ाम धर गया कोई अब उन के हुस्न में हुस्न-ए-नज़र भी शामिल है कुछ और मेरी नज़र से सँवर गया कोई किसी के पाँव की आहट कि दिल की धड़कन थी हज़ार बार उठा सू-ए-दर गया कोई नसीब-ए-अहल-ए-वफ़ा ये सुकून-ए-दिल तो न था ज़रूर नाला-ए-दिल बे-असर गया कोई उठा फिर आज मिरे दिल में रश्क का तूफ़ाँ फिर उन की राह से बा-चश्म-ए-तर गया कोई ये कह के याद करेंगे 'हफ़ीज़' दोस्त मुझे वफ़ा की रस्म को पाइंदा कर गया कोई
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا ارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کا توفیق رفاقت نہیں ان کو سر منزل رستے ہے وہ ہے وہ جنہیں پاس رہا ہم سفری کا اب خانقاہ و مدرسہ و مے کدہ ہیں ایک اک سلسلہ ہے قافلہ بے خبری کا ہر نقش ہے آئینہ نیرنگ تماشا دنیا ہے کہ حاصل مری حیران نظری کا اب خو سے تا عرش زبوں حال ہے فطرت اک معرکہ در پیش ہے عزم بشری کا کب ملتی ہے یہ دولت بیدار کسی کو اور ہے وہ ہے وہ ہوں کہ رونا ہے اسی دیدہ وری کا بے واسطہ عشق بھی رنگ رکھ پرویز عنوان ہے فرہاد کی خونی جگری کا آخر تری در پہ مجھے لے آئی محبت دیکھا نہ گیا تو حال مری در بدری کا دل ہے وہ ہے وہ ہوں فقط جاناں ہی جاناں آنکھوں پہ نہ جاؤ آنکھوں کو تو ہے روگ پریشاں نظری کا بے پیروی میر عروس بہار اپنی رویش ہے ہم پر کوئی الزام نہیں کم ہنری کا
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا ا سے انتظار ہے وہ ہے وہ ک سے ک سے سے پیار ہم نے کیا تلاش دوست کو اک عمر چاہیے اے دوست کہ ایک عمر ترا انتظار ہم نے کیا تری خیال ہے وہ ہے وہ دل شادماں رہا برسوں تری حضور اسے سوگوار ہم نے کیا یہ تشنہ لبی ہے کے ان سے قریب رہ کر بھی عرو سے بہار یاد ا نہیں بار بار ہم نے کیا
Hafeez Hoshiarpuri
3 likes
روشنی سی کبھی کبھی دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل بے نشاں سے آتی ہے لوٹ کر نور کی کرن چنو سفر لا مکان سے آتی ہے نو انسان ہے گوش بر آواز کیا خبر ک سے ج ہاں سے آتی ہے اپنی پڑنا بازگشت لگ ہوں اک صدا آ سماں سے آتی ہے تختہ دار ہے کہ تختہ گل بو خوں گلستاں سے آتی ہے دل سے آتی ہے بات لب پہ عرو سے بہار بات دل ہے وہ ہے وہ ک ہاں سے آتی ہے
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Hoshiarpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Hoshiarpuri's ghazal.







