ghazalKuch Alfaaz

لہو لگ ہوں تو ترجماں نہیں ہوتا ہمارے دور ہے وہ ہے وہ آنسو زبان نہیں ہوتا ج ہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکان نہیں ہوتا یہ ک سے مقام پہ لائی ہے مری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا ب سے اک نگاہ مری راہ دیکھتی ہوتی یہ سارا شہر میرا میزبان نہیں ہوتا ترا خیال لگ ہوتا تو کون سمجھاتا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں تو کوئی آ سماں نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھول گیا تو ہوں یہ کون مانے گا کسی چراغ کے ب سے ہے وہ ہے وہ دھواں نہیں ہوتا مسئلہ صدیوں کی آنکھوں سے دیکھیے مجھ کو حقیقت لفظ ہوں جو کبھی داستان نہیں ہوتا

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

More from Waseem Barelvi

اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے

Waseem Barelvi

7 likes

صرف تیرا نام لے کر رہ گیا تو آج دیوا لگ بے حد کچھ کہ گیا تو کیا مری تقدیر ہے وہ ہے وہ منزل نہیں فاصلہ کیوں مسکرا کر رہ گیا تو زندگی دنیا ہے وہ ہے وہ ایسا خوشی تھی جو ذرا پلکوں پہ ٹھہرا بہ گیا تو اور کیا تھا ا سے کی پرسش کا جواب اپنے ہی آنسو چھپا کر رہ گیا تو ا سے سے پوچھ اے کامیاب زندگی ج سے کا افسا لگ ادھورا رہ گیا تو ہاں یہ کیا دیوانگی تھی اے مسئلہ جو لگ کہنا چاہیے تھا کہ گیا تو

Waseem Barelvi

2 likes

بھلا غموں سے ک ہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کر دیا اعلان گمراہی ور لگ ہمارے پیچھے بے حد لوگ آنے والے تھے ا نہیں تو خاک ہے وہ ہے وہ ملنا ہی تھا کہ مری تھے یہ خوشی کون سے اونچے گھرانے والے تھے ا نہیں قریب لگ ہونے دیا کبھی ہے وہ ہے وہ نے جو دوستی ہے وہ ہے وہ حدیں بھول جانے والے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو جان کے پہچان بھی نہیں سکتا کچھ ایسے لوگ میرا گھر جلانے والے تھے ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ملے جو بے حد یاد آنے والے تھے مسئلہ کیسی مقدم کی راہ تھی ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ملے جو بے حد دل دکھانے والے تھے

Waseem Barelvi

5 likes

زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھے اپنا احسا سے ہی ایسا ہے جو تنہا رکھے کن شکستوں کے شب و روز سے گزرا ہوگا حقیقت مصور جو ہر اک نقش ادھورا رکھے خشک مٹی ہی نے جب پاؤں زمانے لگ دیے بہتے دریا سے پھروں امید کوئی کیا رکھے آ غم لیل و نہار اسی موڑ پہ ہوں جاؤں جدا جو مجھے میرا ہی رہنے دے لگ تیرا رکھے آرزوؤں کے بے حد خواب تو دیکھو ہوں مسئلہ جانے ک سے حال ہے وہ ہے وہ بے درد زما لگ رکھے

Waseem Barelvi

1 likes

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار لگ ہوں حقیقت اعتبار دلائے اور اعتبار لگ ہوں ہوا خلاف ہوں موجوں پہ اختیار لگ ہوں یہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گاؤں لوٹ رہا ہوں بے حد دنوں کے بعد خدا کرے کہ اسے میرا انتظار لگ ہوں ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینا مری طرح بھی کوئی میرا غم گسار لگ ہوں دکھی سماج ہے وہ ہے وہ آنسو بھرے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے یہ کون بتائے کہ خوشی بار لگ ہوں گناہگاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہوں مسئلہ آج کہی جاناں بھی سنگسار لگ ہوں

Waseem Barelvi

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Waseem Barelvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.