ghazalKuch Alfaaz

main apna naam tire jism par likha dekhun dikhai dega abhi battiyan bujha dekhun phir us ko paun mira intizar karte hue phir us makan ka darvaza adh-khula dekhun ghataen aaen to ghar ghar ko dubta paun hava chale to har ik ped ko gira dekhun kitab kholun to harfon men khalbali mach jaae qalam uthaun to kaghhaz ko phailta dekhun utaar phenkun badan se phati purani qamis badan qamis se badh kar kata-phata dekhun vahin kahin na padi ho tamanna jiine ki phir ek baar unhin jangalon men ja dekhun vo roz shaam ko 'alvi' idhar se jaati hai to kya main aaj use apne ghar bula dekhun main apna nam tere jism par likha dekhun dikhai dega abhi battiyan bujha dekhun phir us ko paun mera intizar karte hue phir us makan ka darwaza adh-khula dekhun ghataen aaen to ghar ghar ko dubta paun hawa chale to har ek ped ko gira dekhun kitab kholun to harfon mein khalbali mach jae qalam uthaun to kaghaz ko phailta dekhun utar phenkun badan se phati purani qamis badan qamis se badh kar kata-phata dekhun wahin kahin na padi ho tamanna jine ki phir ek bar unhin jangalon mein ja dekhun wo roz sham ko 'alwi' idhar se jati hai to kya main aaj use apne ghar bula dekhun

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Mohammad Alvi

دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی لو گلے پڑے کانٹے کیوں گلوں کی خواہش کی جگمگا اٹھے تارے بات تھی نمائش کی اک پتنگا اجرت تھی چھپکلی کی جنبش کی ہم توقع رکھتے ہیں اور حقیقت بھی بخشش کی لطف آ گیا تو علوی واہ خوب کوشش کی

Mohammad Alvi

3 likes

دن اک کے بعد ایک گزرنے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر سمے کھلتے پھول کی جانب تکا لگ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں ہے وہ ہے وہ رہ کے ک سے لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو دشمنوں سے لگ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بجا بگلوں کو آسمان کتھرتے ہوئے بھی دیکھ حیران مت ہوں چٹخے گی مچھلی کو دیکھ کر پانی ہے وہ ہے وہ روشنی کو اترتے ہوئے بھی دیکھ ا سے کو خبر نہیں ہے ابھی اپنے حسن کی آئی لگ دے کے بنتے سنورتے ہوئے بھی دیکھ دیکھا لگ ہوگا تو نے م گر انتظار ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ تعریف سن کے دوست سے علوی تو خوش لگ ہوں ا سے کو تری برائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھ

Mohammad Alvi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mohammad Alvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mohammad Alvi's ghazal.