ghazalKuch Alfaaz

meri saari zindagi ko be-samar us ne kiya umr meri thi magar us ko basar us ne kiya main bahut kamzor tha is mulk men hijrat ke baad par mujhe is mulk men kamzor-tar us ne kiya rahbar mera bana gumrah karne ke liye mujh ko sidhe raste se dar-ba-dar us ne kiya shahr men vo mo'atabar meri gavahi se hua phir mujhe is shahr men na-mo'tabar us ne kiya shahr ko barbad kar ke rakh diya us ne 'munir' shahr par ye zulm mere naam par us ne kiya meri sari zindagi ko be-samar us ne kiya umr meri thi magar us ko basar us ne kiya main bahut kamzor tha is mulk mein hijrat ke baad par mujhe is mulk mein kamzor-tar us ne kiya rahbar mera bana gumrah karne ke liye mujh ko sidhe raste se dar-ba-dar us ne kiya shahr mein wo mo'atabar meri gawahi se hua phir mujhe is shahr mein na-mo'tabar us ne kiya shahr ko barbaad kar ke rakh diya us ne 'munir' shahr par ye zulm mere nam par us ne kiya

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Muneer Niyazi

ہنسی چھپا بھی گیا تو اور نظر ملا بھی گیا تو یہ اک جھلک کا تماشا ج گر جلا بھی گیا تو اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہمان تھا صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا تو غضب ہوا جو اندھیرے ہے وہ ہے وہ جل اٹھی بجلی بدن کسی کا طلسمات کچھ دکھا بھی گیا تو لگ آیا کوئی لب بام شام ڈھلنے لگی وفور شوق سے آنکھوں ہے وہ ہے وہ خون آ بھی گیا تو ہوا تھی گہری گھٹا تھی حنا کی خوشبو تھی یہ ایک رات کا قصہ لہو رلا بھی گیا تو چلو منیر چلیں اب ی ہاں رہیں بھی تو کیا حقیقت سنگ دل تو ی ہاں سے کہی چلا بھی گیا تو

Muneer Niyazi

4 likes

بے خیالی ہے وہ ہے وہ یوں ہی ب سے اک ارادہ کر لیا اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا جانتے تھے دونوں ہم ا سے کو نبھا سکتے نہیں ا سے نے وعدہ کر لیا ہے وہ ہے وہ نے بھی وعدہ کر لیا غیر سے خوبصورت جو پا لی خرچ خود پر ہوں گئی جتنے ہم تھے ہم نے خود کو ا سے سے آدھا کر لیا شام کے رنگوں ہے وہ ہے وہ رکھ کر صاف پانی کا گلا سے آب سادہ کو حریف رنگ بادہ کر لیا ہجرتوں کا خوف تھا یا پر کشش کہ لگ مقام کیا تھا ج سے کو ہم نے خود دیوار جادہ کر لیا ایک ایسا بے وجہ بنتا جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ منیر ج سے نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا

Muneer Niyazi

6 likes

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا دنیا سے خموشی سے گزر جائیں ہم تو کیا ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے اک خواب ہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ بکھر جائیں ہم تو کیا اب کون منتظر ہے ہمارے لیے و ہاں شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا دل کی خلش تو ساتھ رہےگی تمام عمر دریا غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

Muneer Niyazi

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Muneer Niyazi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Muneer Niyazi's ghazal.