mire baare men kuchh socho mujhe niind aa rahi hai mujhe zaae.a na hone do mujhe niind aa rahi hai mire andar ke dukh chehre se zahir ho rahe hain miri tasvir mat khincho mujhe niind aa rahi hai to kya saare gile-shikve abhi kar loge mujh se kuchh ab kal ke liye rakkho mujhe niind aa rahi hai sahar hogi to dekhenge ki hain kya kya masail zara si der sone do mujhe niind aa rahi hai tumhara kaam hai saari hisen bedar rakhna mire shane pe sar rakkho mujhe niind aa rahi hai bahut kuchh tum se kahna tha magar main kah na paaya lo meri diary rakh lo mujhe niind aa rahi hai mere bare mein kuchh socho mujhe nind aa rahi hai mujhe zaea na hone do mujhe nind aa rahi hai mere andar ke dukh chehre se zahir ho rahe hain meri taswir mat khincho mujhe nind aa rahi hai to kya sare gile-shikwe abhi kar loge mujh se kuchh ab kal ke liye rakkho mujhe nind aa rahi hai sahar hogi to dekhenge ki hain kya kya masail zara si der sone do mujhe nind aa rahi hai tumhaara kaam hai sari hisen bedar rakhna mere shane pe sar rakkho mujhe nind aa rahi hai bahut kuchh tum se kahna tha magar main kah na paya lo meri diary rakh lo mujhe nind aa rahi hai
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
More from Mohsin Asrar
مری بارے ہے وہ ہے وہ کچھ سوچو مجھے نیند آ رہی ہے مجھے ضائع لگ ہونے دو مجھے نیند آ رہی ہے مری اندر کے دکھ چہرے سے ظاہر ہوں رہے ہیں مری تصویر مت کھینچو مجھے نیند آ رہی ہے تو کیا سارے گلے شکوے ابھی کر لوگے مجھ سے کچھ اب کل کے لیے رکھو مجھے نیند آ رہی ہے سحر ہوں گی تو سر و ساماں کہ ہیں کیا کیا مسائل ذرا سی دیر سونے دو مجھے نیند آ رہی ہے تمہارا کام ہے ساری حسین منجملہ و اسباب ماتم رکھنا مری شانے پہ سر رکھو مجھے نیند آ رہی ہے بے حد کچھ جاناں سے کہنا تھا م گر ہے وہ ہے وہ کہ لگ پایا لو مری ڈائری رکھ لو مجھے نیند آ رہی ہے
Mohsin Asrar
6 likes
مجھے ملال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے م گر یہ حال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹوٹتا بھی ہوں اور خود ہی جوڑ بھی جاتا ہوں کہ یہ غصہ بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے جواب دیتا ہے مری ہر اک سوال کا حقیقت م گر سوال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے حقیقت مری حال سے مجھ کو ہی بے خبر کر دے یہ احتمال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہجر ہے وہ ہے وہ کیوں ٹوٹ کر نہیں رویا یہ اک سوال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے جب آگہی مجھے گمراہ کرتی ہے محسن جنوں بحال بھی ا سے کی طرف سے ہوتا ہے
Mohsin Asrar
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohsin Asrar.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohsin Asrar's ghazal.







