ghazalKuch Alfaaz

مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رکھ بھی بدل گئے ترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر اڑی زلف چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے وہی بات جو وہ نہ کہ سکے مری رنگ و بو میں آ گئی وہی لب نہ میں جنہیں چھو سکا قدح شراب میں ڈھل گئے وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستین دل زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے تجھے پلٹی پتا بھی ہے کہ شباب گرمی بزم ہے تجھے پلٹی خبر بھی ہے کہ سب آبگینے پگھل گئے مری کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی طواف بڑھیں اس قدر مری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستین دل زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے تجھے پلٹی پتا بھی ہے کہ شباب گرمی بزم ہے تجھے پلٹی خبر بھی ہے کہ سب آبگینے پگھل گئے مری کام آ گئیں آخرش یہی کاوشیں یہی طواف بڑھیں اس قدر مری منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے

Related Ghazal

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

ہے وہ ہے وہ بھی جاناں جیسا ہوں اپنے سے جدا مت سمجھو آدمی ہی مجھے رہنے دو خدا مت سمجھو یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو را سے آتا نہیں سب کو یہ محبت کا مرض مری بیماری کو جاناں اپنی دوا مت سمجھو

Shakeel Azmi

51 likes

More from Majrooh Sultanpuri

جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا تو سوز جاناں دل ہے وہ ہے وہ سوز دیگران بنتا گیا تو رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م گر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا تو ج سے طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق بچھاؤ سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا تو شرح غم تو بڑھوا ہوتی گئی ا سے کے حضور لفظ جو منا سے لگ نکلا داستان بنتا گیا تو دہر ہے وہ ہے وہ مجروح کوئی جاویداں مضمون ک ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے چھوتا گیا تو حقیقت جاویداں بنتا گیا تو

Majrooh Sultanpuri

1 likes

محرومی تاثیر کی تدبیر لگ دیکھ ہوں ہی جائے گی کوئی جینے کی تلخی تقریر لگ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر لگ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکون خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر لگ دیکھ دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ کچھ بھی ہوں پھروں بھی دکھے دل کی صدا ہوں نادان مری باتوں کو سمجھ شاعر آوارہ مزاج لگ دیکھ وہی مجروح وہی اٹھا کوئی دل گیر ہے تری بزم سے کانپتا لگ دیکھ

Majrooh Sultanpuri

1 likes

کوئی ہم دم لگ رہا کوئی سہارا لگ رہا ہم کسی کے لگ رہے کوئی ہمارا لگ رہا شام تنہائی کی ہے آوےگی عشق دل منزل کیسے جو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا لگ رہا اے نظارہ لگ ہنسو مل لگ سکوںگا جاناں سے جاناں مری ہوں لگ سکے ہے وہ ہے وہ بھی تمہارا لگ رہا کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ک ہاں یوںہی چلا جاتا ہوں جو مجھے پھروں سے بلا لے حقیقت اشارہ لگ رہا

Majrooh Sultanpuri

2 likes

یوں تو آپ سے ہے وہ ہے وہ بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہی الفت ہے وہ ہے وہ جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ غضب چیز محبت والے درد خود مشعل جاں ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے لگ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگا ہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں ایسے ہن سے ہن سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

Majrooh Sultanpuri

4 likes

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح ا سے کوئے تشنہ لبی ہے وہ ہے وہ بے حد ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا تو ہے دولت بیدار کی طرح حقیقت تو کہی ہے اور م گر دل کے آ سے پا سے پھرتی ہے کوئی اجازت نگہ یار کی طرح سیدھی ہے راہ شوق پہ یوںہی کہی کہی خم ہوں گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح بے تیشہ نظر لگ چلو راہ رفتگاں ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں زخم ج گر ہوئے لب و رخسار کی طرح مجروح لکھ رہے ہیں حقیقت اہل وفا کا نام ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح

Majrooh Sultanpuri

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Majrooh Sultanpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Majrooh Sultanpuri's ghazal.