नया है शहर नए आसरे तलाश करूँँ तू खो गया है कहाँ अब तुझे तलाश करूँँ जो दश्त में भी जलाते थे फ़स्ल-ए-गुल के चराग़ मैं शहर में भी वही आबले तलाश करूँँ तू अक्स है तो कभी मेरी चश्म-ए-तर में उतर तिरे लिए मैं कहाँ आइने तलाश करूँँ तुझे हवा से की आवारगी का इल्म कहाँ कभी मैं तुझ को तिरे सामने तलाश करूँँ ग़ज़ल कहूँ कभी सादास ख़त लिखूँ उस को उदास दिल के लिए मश्ग़ले तलाश करूँँ मिरे वजूद से शायद मिले सुराग़ तिरा कभी मैं ख़ुद को तिरे वास्ते तलाश करूँँ मैं चुप रहूँ कभी बे-वज्ह हँस पड़ूँ 'मोहसिन' उसे गँवा के अजब हौसले तलाश करूँँ
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو
Mehshar Afridi
53 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو
Tehzeeb Hafi
203 likes
More from Mohsin Naqvi
जब से उस ने शहर को छोड़ा हर रस्ता सुनसान हुआ अपना क्या है सारे शहर का इक जैसा नुक़सान हुआ ये दिल ये आसेब की नगरी मस्कन सोचूँ वहमों का सोच रहा हूँ इस नगरी में तू कब से मेहमान हुआ सहरा की मुँह-ज़ोर हवाएँ औरों से मंसूब हुईं मुफ़्त में हम आवारा ठहरे मुफ़्त में घर वीरान हुआ मेरे हाल पे हैरत कैसी दर्द के तन्हा मौसम में पत्थर भी रो पड़ते हैं इंसान तो फिर इंसान हुआ इतनी देर में उजड़े दिल पर कितने महशर बीत गए जितनी देर में तुझ को पा कर खोने का इम्कान हुआ कल तक जिस के गिर्द था रक़्साँ इक अम्बोह सितारों का आज उसी को तन्हा पा कर मैं तो बहुत हैरान हुआ उस के ज़ख़्म छुपा कर रखिए ख़ुद उस शख़्स की नज़रों से उस से कैसा शिकवा कीजे वो तो अभी नादान हुआ जिन अश्कों की फीकी लौ को हम बे-कार समझते थे उन अश्कों से कितना रौशन इक तारीक मकान हुआ यूँँ भी कम-आमेज़ था 'मोहसिन' वो इस शहर के लोगों में लेकिन मेरे सामने आ कर और भी कुछ अंजान हुआ
Mohsin Naqvi
0 likes
اب حقیقت طوفاں ہے لگ حقیقت شور ہواؤں جیسا دل کا عالم ہے تری بعد خلاوں جیسا کاش دنیا مری احسا سے کو واپ سے کر دے خموشی کا وہی انداز صداؤں جیسا پا سے رہ کر بھی ہمیشہ حقیقت بے حد دور ملا ا سے کا انداز ت غافل تھا خداؤں جیسا کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احسا سے مآل پھول کھیل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا کیا خوشگوار ہے کہ دنیا اسے سردار کہے ج سے کا انداز سخن بھی ہوں گداؤں جیسا پھروں تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھروں مری دل ہے وہ ہے وہ اٹھا شور ہواؤں جیسا بارہا خواب ہے وہ ہے وہ پا کر مجھے پیاسا محسن ا سے کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
Mohsin Naqvi
1 likes
عذاب دید ہے وہ ہے وہ آنکھیں لہو لہو کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے کھنڈر کی تہ سے بریدا بدن سروں کے سوا ملا لگ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے سنا ہے شہر ہے وہ ہے وہ اڑھائی دلوں کا میلا ہے چلیں گے ہم بھی م گر پیرہن رفو کر کے مسافت شب ہجراں کے بعد بھیڈ کھلا ہوا دکھی ہے چراغوں کی رکھ کر کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی پیا سے اسی کے لہو کو چاٹ گئی حقیقت خوش ہوا تھا سمندر کو آبجو کر کے یہ ک سے نے ہم سے لہو کا خراج قیصری پھروں مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے جلو سے اہل وفا ک سے کے در پہ پہنچا ہے نشان طوق وفا زینت گلو کر کے اجاڑ رت کو اولیں بنائے رکھتی ہے ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے کوئی تو حب سے ہوا سے یہ پوچھتا محسن ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے
Mohsin Naqvi
1 likes
ہوا ہجر ہے وہ ہے وہ جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا کہ پیرہن تو گیا تو تھا بدن بھی چاک ہوا اب ا سے سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں بدن سے روح کا ا سے درجہ اشتراک ہوا یہی کہ سب کی عزائم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ ٹوٹی ہیں چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا حقیقت بے سبب یوںہی روٹھا ہے گل آرزو کے لیے یہ سانحہ لگ صحیح پھروں بھی کرب ناک ہوا اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر حقیقت ج سے کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا شدید وار لگ دشمن دلیر تھا محسن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی بے خبری سے م گر انداز وصل ہوا
Mohsin Naqvi
0 likes
मैं दिल पे जब्र करूँँगा तुझे भुला दूँगा मरूँगा ख़ुद भी तुझे भी कड़ी सज़ा दूँगा ये तीरगी मिरे घर का ही क्यूँँ मुक़द्दर हो मैं तेरे शहर के सारे दिए बुझा दूँगा हवा का हाथ बटाऊँगा हर तबाही में हरे शजर से परिंदे मैं ख़ुद उड़ा दूँगा वफ़ा करूँँगा किसी सोगवार चेहरे से पुरानी क़ब्र पे कतबा नया सजा दूँगा इसी ख़याल में गुज़री है शाम-ए-दर्द अक्सर कि दर्द हद से बढ़ेगा तो मुस्कुरा दूँगा तू आसमान की सूरत है गर पड़ेगा कभी ज़मीं हूँ मैं भी मगर तुझ को आसरा दूँगा बढ़ा रही हैं मिरे दुख निशानियाँ तेरी मैं तेरे ख़त तिरी तस्वीर तक जला दूँगा बहुत दिनों से मिरा दिल उदास है 'मोहसिन' इस आइने को कोई अक्स अब नया दूँगा
Mohsin Naqvi
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohsin Naqvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohsin Naqvi's ghazal.







