ghazalKuch Alfaaz

nazar se guftugu khamosh lab tumhari tarah ghhazal ne sikhe hain andaz sab tumhari tarah jo pyaas tez ho to ret bhi hai chadar-e-ab dikhai duur se dete hain sab tumhari tarah bula raha hai zamana magar tarasta huun koi pukare mujhe be-sabab tumhari tarah hava ki tarah main be-tab huun ki shakh-e-gulab lahakti hai miri aahat pe ab tumhari tarah misal-e-vaqt men tasvir-e-subh-o-sham huun ab mire vajud pe chhai hai shab tumhari tarah sunate hain mujhe khvabon ki dastan aksar kahaniyon ke pur-asrar lab tumhari tarah nazar se guftugu khamosh lab tumhaari tarah ghazal ne sikhe hain andaz sab tumhaari tarah jo pyas tez ho to ret bhi hai chadar-e-ab dikhai dur se dete hain sab tumhaari tarah bula raha hai zamana magar tarasta hun koi pukare mujhe be-sabab tumhaari tarah hawa ki tarah main be-tab hun ki shakh-e-gulab lahakti hai meri aahat pe ab tumhaari tarah misal-e-waqt mein taswir-e-subh-o-sham hun ab mere wajud pe chhai hai shab tumhaari tarah sunate hain mujhe khwabon ki dastan aksar kahaniyon ke pur-asrar lab tumhaari tarah

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

याद तब करते हो करने को न हो जब कुछ भी और कहते हो तुम्हें इश्क़ है मतलब कुछ भी अब जो आ आ के बताते हो वो शख़्स ऐसा था जब मेरे साथ था वो क्यूँँ न कहा तब कुछ भी वक्फ़े-वक्फ़े से मुझे देखने आते रहना हिज्र की शब है सो हो सकता है इस शब कुछ भी

Umair Najmi

68 likes

More from Bashir Badr

مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے

Bashir Badr

2 likes

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا

Bashir Badr

1 likes

ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे

Bashir Badr

1 likes

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے

Bashir Badr

1 likes

چائے کی پیالی ہے وہ ہے وہ نیلی ٹیبلٹ گھولی سے ہمیں سے ہمیں ہاتھوں نے اک کتاب پھروں کھولی دائرے اندھیروں کے روشنی کے پورو نے کوٹ کے بٹن کھولے ٹائی کی گرہ کھولی شیشے کی سلائی ہے وہ ہے وہ کالے بھوت کا چڑھنا بام کاٹھ کا گھوڑا نیم کانچ کی گولی برف ہے وہ ہے وہ دبا مکھن موت ریل اور رکشہ زندگی خوشی رکشہ ریل مو ٹرین ڈولی اک کتاب چاند اور پیڑ سب کے کالے کالر پر ذہن ٹیپ کی گردش منا ہے وہ ہے وہ توتوں کی بولی حقیقت نہیں ملی ہم کو حک بٹن سرکتی زین زپ کے دانت کھلتے ہی آنکھ سے گری چولی

Bashir Badr

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.