ghazalKuch Alfaaz

pa-ba-gil sab hain rihai ki kare tadbir kaun dast-basta shahr men khole miri zanjir kaun mera sar hazir hai lekin mera munsif dekh le kar raha hai meri fard-e-jurm ko tahrir kaun aaj darvazon pe dastak jaani pahchani si hai aaj mere naam laata hai miri taazir kaun koi maqtal ko gaya tha muddaton pahle magar hai dar-e-khema pe ab tak surat-e-tasvir kaun meri chadar to chhini thi shaam ki tanhai men be-ridai ko miri phir de gaya tashhir kaun sach jahan pa-basta mulzim ke katahre men mile us adalat men sunega adl ki tafsir kaun niind jab khvabon se pyari ho to aise ahd men khvab dekhe kaun aur khvabon ko de tabir kaun ret abhi pichhle makanon ki na vapas aai thi phir lab-e-sahil gharaunda kar gaya taamir kaun saare rishte hijraton men saath dete hain to phir shahr se jaate hue hota hai daman-gir kaun dushmanon ke saath mere dost bhi azad hain dekhna hai khinchta hai mujh pe pahla tiir kaun pa-ba-gil sab hain rihai ki kare tadbir kaun dast-basta shahr mein khole meri zanjir kaun mera sar hazir hai lekin mera munsif dekh le kar raha hai meri fard-e-jurm ko tahrir kaun aaj darwazon pe dastak jaani pahchani si hai aaj mere nam lata hai meri tazir kaun koi maqtal ko gaya tha muddaton pahle magar hai dar-e-khema pe ab tak surat-e-taswir kaun meri chadar to chhini thi sham ki tanhai mein be-ridai ko meri phir de gaya tashhir kaun sach jahan pa-basta mulzim ke katahre mein mile us adalat mein sunega adl ki tafsir kaun nind jab khwabon se pyari ho to aise ahd mein khwab dekhe kaun aur khwabon ko de tabir kaun ret abhi pichhle makanon ki na wapas aai thi phir lab-e-sahil gharaunda kar gaya tamir kaun sare rishte hijraton mein sath dete hain to phir shahr se jate hue hota hai daman-gir kaun dushmanon ke sath mere dost bhi aazad hain dekhna hai khinchta hai mujh pe pahla tir kaun

Related Ghazal

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

More from Parveen Shakir

اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب

Parveen Shakir

2 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

خوشی آنکھ ہے وہ ہے وہ پھروں اٹک رہا ہے کنکر سا کوئی خٹک رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے خیال سے گریزاں حقیقت مری صدا جھٹک رہا ہے تحریر اسی کی ہے م گر دل خط پیسہ ہوئے اٹک رہا ہے ہیں فون پہ ک سے کے ساتھ باتیں اور ذہن ک ہاں بھٹک رہا ہے صدیوں سے سفر ہے وہ ہے وہ ہے سمندر ساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے اک چاند صلیب شاخ گل پر بالی کی طرح لٹک رہا ہے

Parveen Shakir

3 likes

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ ہے وہ ہے وہ ہے تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے تری بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے یہ اعتراف بھی شامل مری گناہ ہے وہ ہے وہ ہے عذاب دےگا تو پھروں مجھ کو خواب بھی دےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مطمئن ہوں میرا دل تری پناہ ہے وہ ہے وہ ہے بکھر چکا ہے م گر مسکرا کے ملتا ہے حقیقت رکھ رکھاو ابھی مری کج کلاہ ہے وہ ہے وہ ہے جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے حقیقت اک مکان ابھی تک جلوے کی چاہ ہے وہ ہے وہ ہے یہی حقیقت دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے تنخواہ ہے وہ ہے وہ ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی مری قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ ہے وہ ہے وہ ہے

Parveen Shakir

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.