pahle nahai os men phir ansuon men raat yuun buund buund utri hamare gharon men raat kuchh bhi dikhai deta nahin duur duur tak chubhti hai suiyon ki tarah jab ragon men raat vo khurduri chatanen vo dariya vo abshar sab kuchh samet le gai apne paron men raat ankhon ko sab ki niind bhi di khvab bhi diye ham ko shumar karti rahi dushmanon men raat be-samt manzilon ne bulaya hai phir hamen sannate phir bichhane lagi raston men raat pahle nahai os mein phir aansuon mein raat yun bund bund utri hamare gharon mein raat kuchh bhi dikhai deta nahin dur dur tak chubhti hai suiyon ki tarah jab ragon mein raat wo khurduri chatanen wo dariya wo aabshaar sab kuchh samet le gai apne paron mein raat aankhon ko sab ki nind bhi di khwab bhi diye hum ko shumar karti rahi dushmanon mein raat be-samt manzilon ne bulaya hai phir hamein sannate phir bichhane lagi raston mein raat
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Shahryar
تری وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا دیکھنے کے لیے اک چہرہ بے حد ہوتا ہے آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا مری تنہائی کی رسوائی کی منزل آئی وصل کے لمحے سے ہے وہ ہے وہ ہجر کی شب بدلوں گا شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے سوچتا روز ہوں ہے وہ ہے وہ گھر سے نہیں نکلوں گا تا کہ ہری رہے مری کی حرمت سچ مجھے لکھنا ہے ہے وہ ہے وہ حسن کو سچ لکھوں گا
Shahryar
6 likes
دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجیے ب سے ایک بار میرا کہا مان لیجیے ا سے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ آپ کو آنا ہے بار بار دیوار و در کو غور سے پہچان لیجیے مانا کہ دوستوں کو نہیں دوستی کا پا سے لیکن یہ کیا کہ غیر کا احسان لیجیے کہیے تو آ سماں کو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر اتار لائیں مشکل نہیں ہے کچھ بھی ا گر ٹھان لیجیے
Shahryar
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shahryar.
Similar Moods
More moods that pair well with Shahryar's ghazal.







