پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن ہے وہ ہے وہ وحشت بہل گئی رات ہوئی اور نکلا چاند کس مقتل سے گزرا ہوگا اتنا سہما سہما چاند یادوں کی آباد گلی ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھوم رہا ہے تنہا چاند میری کروٹ پر جاگ اٹھے نیند کا کتنا تکبر چاند میرے منہ کو کس حیرت سے دیکھ رہا ہے بھولا چاند اتنے گھنے بادل کے پیچھے کتنا تنہا ہوگا چاند آنسو روکے نور نہائے دل دریا تن صحرا چاند اتنے روشن چہرے پر بھی سورج کا ہے سایہ چاند جب پانی ہے وہ ہے وہ چہرہ دیکھا تو نے کس کو سوچا چاند برگد کی اک شاخ ہٹا کر جانے کس کو جھانکا چاند بادل کے ریشم جھولے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھور سمے تک سویا چاند رات کے شانے پر سر رکھے دیکھ رہا ہے سپنا چاند سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر شبنم تھی یا نہنہ چاند ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا اس کا کا کی صورت ہجر کا چاند صحرا صحرا بھٹک رہا ہے اپنے عشق ہے وہ ہے وہ سچا چاند رات کے شاید ایک بجے ہیں سوتا ہوگا میرا چاند
Related Ghazal
بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے
Kumar Vishwas
56 likes
ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا
Tehzeeb Hafi
183 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
تمہارا ہجر منا لوں ا گر اجازت ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی سے لگا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیمان ب سے اپنا سمے گنوا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے ہجر کی شب ہاں یہ کار ہے وہ ہے وہ جاناں کوئی چراغ جلا لوں ا گر اجازت ہوں جنوں وہی ہے وہی ہے م گر ہے شہر نیا ی ہاں بھی شور مچا لوں ا گر اجازت ہوں کسے ہے خواہش مرہم گری م گر پھروں بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے زخم دکھا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے یاد ہے وہ ہے وہ جینے کی آرزو ہے ابھی کچھ اپنا حال بے زار ا گر اجازت ہوں
Jaun Elia
45 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
More from Parveen Shakir
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
4 likes
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
1 likes
دل کا کیا ہے حقیقت تو چاہےگا مسلسل ملنا حقیقت ستم گر بھی م گر اپائے کسی پل ملنا واں نہیں سمے تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت ا سے سے کیا م لیے جو ہر روز کہے کل ملنا عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم شہر کی سوچ ہے وہ ہے وہ ہوں اور اسے جنگل ملنا ا سے کا ملنا ہے غضب طرح کا ملنا چنو دشت امید ہے وہ ہے وہ اندیشے کا بادل ملنا دامن شب کو ا گر چاک بھی کر لیں تو ک ہاں نور ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا
Parveen Shakir
1 likes
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر اک عمر مری کھیت تھے جس ابر کو ترسے کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے محنت مری آندھی سے تو بادہ آشامی نہیں تھی رہنا تھا کوئی ربط شجر کا بھی ثمر سے خود اپنے سے ملنے کا تو یارا نہ تھا مجھ میں میں بھیڑ میں گم ہو گئی تنہائی کے ڈر سے بے نام مسافت ہی مقدر ہے تو کیا غم منزل کا تعیین کبھی ہوتا ہے سفر سے پتھرایا ہے دل یوں کہ کوئی اسم پڑھا جائے یہ شہر نکلتا نہیں جادو کے اثر سے نکلے ہیں تو رستے میں کہیں شام بھی ہو گی سورج بھی مگر آئےگا اس رہگزر سے
Parveen Shakir
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







