raat ke pichhle pahar rone ke aadi roe aap aae bhi magar rone ke aadi roe un ke aa jaane se kuchh tham se gae the aansu un ke jaate hi magar rone ke aadi roe haae pabandi-e-adab tiri mahfil ki ki sar-e-rahguzar rone ke aadi roe ek taqrib-e-tabassum thi baharan lekin phir bhi ankhen huiin tar rone ke aadi roe dard-mandon ko kahin bhi to qarar aa na saka koi sahra ho ki ghar rone ke aadi roe ai 'faraz' aise men barsat kategi kyunkar gar yunhi sham-o-sahar rone ke aadi roe raat ke pichhle pahar rone ke aadi roe aap aae bhi magar rone ke aadi roe un ke aa jaane se kuchh tham se gae the aansu un ke jate hi magar rone ke aadi roe hae pabandi-e-adab teri mahfil ki ki sar-e-rahguzar rone ke aadi roe ek taqrib-e-tabassum thi bahaaran lekin phir bhi aankhen huin tar rone ke aadi roe dard-mandon ko kahin bhi to qarar aa na saka koi sahra ho ki ghar rone ke aadi roe ai 'faraaz' aise mein barsat kategi kyunkar gar yunhi sham-o-sahar rone ke aadi roe
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے
Tehzeeb Hafi
124 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
More from Ahmad Faraz
کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے
Ahmad Faraz
3 likes
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
Ahmad Faraz
3 likes
دل بدن کا شریک حال ک ہاں ہجر پھروں ہجر ہے وصال ک ہاں عشق ہے نام انتہاؤں کا ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ اعتدال ک ہاں ایسا نشاط و زہر ہے وہ ہے وہ بھی لگ تھا اے غم دل تری مثال ک ہاں ہم کو بھی اپنی پائمالی کا ہے م گر ا سے دودمان ملال کہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نئی دوستی کے موڑ پہ تھا آ گیا تو ہے ترا خیال کہا دل کہ خوش فہم تھا سو ہے ور لگ تری ملنے کا احتمال ک ہاں وصل و ہجران ہیں اور دنیاہیں ان زمانوں ہے وہ ہے وہ ماہ و سال ک ہاں تجھ کو دیکھا تو لوگ حیران ہیں آ گیا تو شہر ہے وہ ہے وہ غزال ک ہاں تجھ پہ لکھی تو سج گئی ہے غزل آ ملا خواب سے خیال ک ہاں اب تو شہ مات ہوں رہی ہے فراز اب بچاؤ کی کوئی چال ک ہاں
Ahmad Faraz
1 likes
اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے بول اے ہوا شہر کدھر جانا چاہیے کب تک اسی کو آخری منزل کہی گے ہم کوئے مراد سے بھی ادھر جانا چاہیے حقیقت سمے آ گیا تو ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر گہرے سمندروں ہے وہ ہے وہ اتر جانا چاہیے اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے ج سے سمت بھی ہوں گرد سفر جانا چاہیے کچھ تو ثبوت خون تمنا کہی ملے ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیے یا اپنی خواہشوں کو مقد سے لگ جانتے یا خواہشوں کے ساتھ ہی مر جانا چاہیے
Ahmad Faraz
10 likes
ج سے سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی دیکھا تو حقیقت تصویر ہر اک دل سے لگی تھی تنہائی ہے وہ ہے وہ روتے ہیں کہ یوں دل کو سکون ہوں یہ چوٹ کسی صاحب محفل سے لگی تھی اے دل تری آشوب نے پھروں حشر جگایا بے درد ابھی آنکھ بھی مشکل سے لگی تھی خلقت کا غضب حال تھا ا سے کوئے ستم ہے وہ ہے وہ ہے وہ سائے کی طرح دامن قاتل سے لگی تھی اترا بھی تو کب درد کا چڑھتا ہوا دریا جب کشتی جاں موت کے ساحل سے لگی تھی
Ahmad Faraz
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







