raushni kuchh to mile jangal men aag lag jaae ghane jangal men aap ko shahr men dar lagta hai ham to be-khauf rahe jangal men ek ik shakh zaban ho jaae koi avaz to de jangal men ped se ped laga rahta hai pyaar hota hai bhare jangal men shahr men kaan taraste hi rahe chahchahe ham ne sune jangal men shaam hote hi utar aate hain shokh pariyon ke pare jangal men shokh hirnon ne qulanchen marin mor ke raqs hue jangal men ab bhi qadmon ke nishan milte hain gaanv se duur pare jangal men ab bhi phirti hai koi parchhain raat ke vaqt bhare jangal men khuub the hazrat-e-adam 'alvi' bastiyan chhod gae jangal men raushni kuchh to mile jangal mein aag lag jae ghane jangal mein aap ko shahr mein dar lagta hai hum to be-khauf rahe jangal mein ek ek shakh zaban ho jae koi aawaz to de jangal mein ped se ped laga rahta hai pyar hota hai bhare jangal mein shahr mein kan taraste hi rahe chahchahe hum ne sune jangal mein sham hote hi utar aate hain shokh pariyon ke pare jangal mein shokh hirnon ne qulanchen marin mor ke raqs hue jangal mein ab bhi qadmon ke nishan milte hain ganw se dur pare jangal mein ab bhi phirti hai koi parchhain raat ke waqt bhare jangal mein khub the hazrat-e-adam 'alwi' bastiyan chhod gae jangal mein
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Mohammad Alvi
دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی لو گلے پڑے کانٹے کیوں گلوں کی خواہش کی جگمگا اٹھے تارے بات تھی نمائش کی اک پتنگا اجرت تھی چھپکلی کی جنبش کی ہم توقع رکھتے ہیں اور حقیقت بھی بخشش کی لطف آ گیا تو علوی واہ خوب کوشش کی
Mohammad Alvi
3 likes
دن اک کے بعد ایک گزرنے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر سمے کھلتے پھول کی جانب تکا لگ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں ہے وہ ہے وہ رہ کے ک سے لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو دشمنوں سے لگ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بجا بگلوں کو آسمان کتھرتے ہوئے بھی دیکھ حیران مت ہوں چٹخے گی مچھلی کو دیکھ کر پانی ہے وہ ہے وہ روشنی کو اترتے ہوئے بھی دیکھ ا سے کو خبر نہیں ہے ابھی اپنے حسن کی آئی لگ دے کے بنتے سنورتے ہوئے بھی دیکھ دیکھا لگ ہوگا تو نے م گر انتظار ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ تعریف سن کے دوست سے علوی تو خوش لگ ہوں ا سے کو تری برائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھ
Mohammad Alvi
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohammad Alvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohammad Alvi's ghazal.







