ruki hui hai abhi tak bahar ankhon men shab-e-visal ka jaise khumar ankhon men mita sakegi use gard-e-mah-o-sal kahan khinchi hui hai jo tasvir-e-yar ankhon men bas ek shab ki masafat thi aur ab tak hai mah o nujum ka saara ghhubar ankhon men hazar sahib-e-rakhsh-e-saba-mizaj aae basa hua hai vahi shah-savar ankhon men vo ek tha pa kiya us ko jab tah-e-talvar to bat gaya vahi chehra hazar ankhon men ruki hui hai abhi tak bahaar aankhon mein shab-e-visal ka jaise khumar aankhon mein mita sakegi use gard-e-mah-o-sal kahan khinchi hui hai jo taswir-e-yar aankhon mein bas ek shab ki masafat thi aur ab tak hai mah o nujum ka sara ghubar aankhon mein hazar sahib-e-rakhsh-e-saba-mizaj aae basa hua hai wahi shah-sawar aankhon mein wo ek tha pa kiya us ko jab tah-e-talwar to bat gaya wahi chehra hazar aankhon mein
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Parveen Shakir
اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب
Parveen Shakir
2 likes
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ ہے وہ ہے وہ ہے تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ ہے وہ ہے وہ ہے تری بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے یہ اعتراف بھی شامل مری گناہ ہے وہ ہے وہ ہے عذاب دےگا تو پھروں مجھ کو خواب بھی دےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مطمئن ہوں میرا دل تری پناہ ہے وہ ہے وہ ہے بکھر چکا ہے م گر مسکرا کے ملتا ہے حقیقت رکھ رکھاو ابھی مری کج کلاہ ہے وہ ہے وہ ہے جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے حقیقت اک مکان ابھی تک جلوے کی چاہ ہے وہ ہے وہ ہے یہی حقیقت دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے تنخواہ ہے وہ ہے وہ ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی مری قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ ہے وہ ہے وہ ہے
Parveen Shakir
1 likes
خوشی آنکھ ہے وہ ہے وہ پھروں اٹک رہا ہے کنکر سا کوئی خٹک رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے خیال سے گریزاں حقیقت مری صدا جھٹک رہا ہے تحریر اسی کی ہے م گر دل خط پیسہ ہوئے اٹک رہا ہے ہیں فون پہ ک سے کے ساتھ باتیں اور ذہن ک ہاں بھٹک رہا ہے صدیوں سے سفر ہے وہ ہے وہ ہے سمندر ساحل پہ تھکن ٹپک رہا ہے اک چاند صلیب شاخ گل پر بالی کی طرح لٹک رہا ہے
Parveen Shakir
3 likes
قبائیں کر مری بازو اڑان چھوڑ گیا تو ہوا کے پا سے برہ لگ کمان چھوڑ گیا تو رفاقتوں کا مری ا سے کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی م گر آسمان چھوڑ گیا تو عجیب بے وجہ تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ اک فول دان چھوڑ گیا تو جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا بڑھی ہے دھوپ تو بے سائےبان چھوڑ گیا تو نکل گیا تو کہی ان دیکھے پانیوں کی طرف ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا تو عقاب کو تھی غرض نقش قدم پکڑنے سے جو گر گئی تو یوںہی نیم جان چھوڑ گیا تو لگ جانے کون سا آسیب دل ہے وہ ہے وہ بستہ ہے کہ جو بھی ٹھہرا حقیقت آخر مکان چھوڑ گیا تو عقب ہے وہ ہے وہ گہرا سمندر ہے سامنے جنگل ک سے انتہا پہ میرا مہربان چھوڑ گیا تو
Parveen Shakir
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







