ghazalKuch Alfaaz

samne us ke kabhi us ki sataish nahin ki dil ne chaha bhi agar honton ne jumbish nahin ki ahl-e-mahfil pe kab ahval khula hai apna main bhi khamosh raha us ne bhi pursish nahin ki jis qadar us se ta'alluq tha chala jaata hai us ka kya ranj ho jis ki kabhi khvahish nahin ki ye bhi kya kam hai ki donon ka bharam qaaem hai us ne bakhshish nahin ki ham ne guzarish nahin ki ik to ham ko adab adab ne pyasa rakkha us pe mahfil men surahi ne bhi gardish nahin ki ham ki dukh odh ke khalvat men pade rahte hain ham ne bazar men zakhmon ki numaish nahin ki ai mire abr-e-karam dekh ye virana-e-jan kya kisi dasht pe tu ne kabhi barish nahin ki kat mare apne qabile ki hifazat ke liye maqtal-e-shahr men thahre rahe jumbish nahin ki vo hamen bhuul gaya ho to ajab kya hai 'faraz' ham ne bhi mel-mulaqat ki koshish nahin ki samne us ke kabhi us ki sataish nahin ki dil ne chaha bhi agar honton ne jumbish nahin ki ahl-e-mahfil pe kab ahwal khula hai apna main bhi khamosh raha us ne bhi pursish nahin ki jis qadar us se ta'alluq tha chala jata hai us ka kya ranj ho jis ki kabhi khwahish nahin ki ye bhi kya kam hai ki donon ka bharam qaem hai us ne bakhshish nahin ki hum ne guzarish nahin ki ek to hum ko adab aadab ne pyasa rakkha us pe mahfil mein surahi ne bhi gardish nahin ki hum ki dukh odh ke khalwat mein pade rahte hain hum ne bazar mein zakhmon ki numaish nahin ki ai mere abr-e-karam dekh ye virana-e-jaan kya kisi dasht pe tu ne kabhi barish nahin ki kat mare apne qabile ki hifazat ke liye maqtal-e-shahr mein thahre rahe jumbish nahin ki wo hamein bhul gaya ho to ajab kya hai 'faraaz' hum ne bhi mel-mulaqat ki koshish nahin ki

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Ahmad Faraz

کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں

Ahmad Faraz

6 likes

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

Ahmad Faraz

3 likes

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے تری بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے اب تو یہ آرزو ہے کہ حقیقت زخم کھائیے تا زندگی یہ دل لگ کوئی آرزو کرے تجھ کو بھلا کے دل ہے حقیقت شرمندہ نظر اب کوئی حادثہ ہی تری رو برو کرے چپ چاپ اپنی آگ ہے وہ ہے وہ جلتے رہو فراز دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

Ahmad Faraz

8 likes

ا سے کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے چنو کوئی در دل پر ہوں ستادہ کب سے ایک سایہ لگ درون ہے لگ بروں ہے یوں ہے جاناں نے دیکھی ہی نہیں دشت وفا کی تصویر نوک ہر خار پہ اک قطرہ خوں ہے یوں ہے جاناں محبت ہے وہ ہے وہ ک ہاں سود و زیاں لے آئی عشق کا نام خرد ہے لگ جنوں ہے یوں ہے اب جاناں آئی ہوں مری جان تماشا کرنے اب تو دریا ہے وہ ہے وہ تلاطم لگ سکون ہے یوں ہے ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے یوں ہے شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز یہ بھی اک سلسلہ کن فیکون ہے یوں ہے

Ahmad Faraz

4 likes

قربتوں ہے وہ ہے وہ بھی جدائی کے زمانے مانگے دل حقیقت بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم لگ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانی مانگے زندگی ہم تری داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ صدا آئی لگ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فراز مل گئے جاناں بھی تو کیا اور لگ جانے مانگے

Ahmad Faraz

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.