ghazalKuch Alfaaz

سمندر ہے وہ ہے وہ اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑ کیوں ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لگ جانے ہوں گیا تو ہوں ا سے دودمان حسا سے ہے وہ ہے وہ کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارا دن بے حد مصروف رہتا ہوں م گر جیوں ہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفل سے کے ماتھے پر الم کی داستانے ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے م گر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مری دل پر وسی ہے وہ ہے وہ جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Wasi Shah15 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Wasi Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Wasi Shah's ghazal.