سر راہ کچھ بھی کہا نہیں کبھی اس کے گھر میں گیا نہیں میں جنم جنم سے اسی کا ہوں اسے آج تک یہ پتا نہیں اسے پاک نظروں سے چومنا بھی عبادتوں میں شمار ہے کوئی پھول لاکھ قریب ہو کبھی میں نے اس کو چھوا نہیں یہ خدا کی دین عجیب ہے کہ اسی کا نام نصیب ہے جسے تو نے چاہا وہ مل گیا جسے میں نے چاہا ملا نہیں اسی شہر میں کئی سال سے مری کچھ قریبی عزیز ہیں انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتا نہیں
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Bashir Badr
فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے
Bashir Badr
1 likes
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे
Bashir Badr
1 likes
پھول برسے کہی شبنم کہی گوہر برسے اور ا سے دل کی طرف برسے تو پتھر برسے کوئی بادل ہوں تو تھم جائے م گر خوشی مری ایک رفتار سے دن رات برابر برسے برف کے پھولوں سے روشن ہوئی تاریک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کی شاخ سے چنو مہ و اندھیرا برسے پیار کا گیت اندھیروں پہ اجالوں کی فوار اور خوبصورت کی صدا شیشے پہ پتھر برسے بارشیں چھت پہ کھلی آبرو پہ ہوتی ہیں م گر غم حقیقت ساون ہے جو ان کمروں کے اندر برسے
Bashir Badr
4 likes
مری غزل کی طرح ا سے کی بھی حکومت ہے تمام ملک ہے وہ ہے وہ حقیقت سب سے خوبصورت ہے کبھی کبھی کوئی انسان ایسا لگتا ہے پرانی شہر ہے وہ ہے وہ چنو نئی عمارت ہے جمی ہے دیر سے کمرے ہے وہ ہے وہ غیبتوں کی نشست فضا ہے وہ ہے وہ گرد ہے ماحول ہے وہ ہے وہ کدورت ہے بے حد دنوں سے مری ساتھ تھی م گر کل شام مجھے پتا چلا حقیقت کتنی خوبصورت ہے یہ زائران علی گڑھ کا خاص تحفہ ہے مری غزل کا تبرک دلوں کی برکت ہے
Bashir Badr
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







