سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا
Related Ghazal
سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے ی ہاں تو ا سے کا بڑھانے بولتا ہے و ہاں سر و ساماں حقیقت کیا بولتا ہے تمہارے ساتھ اڑانے بولتی ہے ہمارے ساتھ پنجرہ بولتا ہے نگاہیں کرتی رہ جاتی ہیں ہجے حقیقت جب چہرے سے املا بولتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ رہتا ہوں اتنا بول کر بھی تو چپ رہ کر بھی کتنا بولتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر شاعر ہے وہ ہے وہ یہ بھی دیکھتا ہوں بنا مائک کے حقیقت کیا بولتا ہے
Fahmi Badayuni
40 likes
آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
Bashir Badr
38 likes
जो इस्म-ओ-जिस्म को बाहम निभाने वाला नहीं मैं ऐसे इश्क़ पर ईमान लाने वाला नहीं मैं पाँव धोके पि यूँ, यार बनके जो आए मुनाफ़िक़ों को तो मैं मुँह लगाने वाला नहीं बस इतना जान ले ऐ पुर-कशिश के दिल तुझ सेे बहल तो सकता है पर तुझ पे आने वाला नहीं तुझे किसी ने ग़लत कह दिया मेरे बारे नहीं मियाँ मैं दिलों को दुखाने वाला नहीं सुन ऐ काबिला-ए-कुफी-दिलाँ मुकर्रर सुन अली कभी भी हजीमत उठाने वाला नहीं
Ali Zaryoun
31 likes
ا سے نے دو چار کر دیا مجھ کو ذہنی بیمار کر دیا مجھ کو کیوں نہیں دسترسی ہے وہ ہے وہ تو مری کیوں طلبگار کر دیا مجھ کو کبھی پتھر کبھی خدا ا سے نے چاہا جو یار کر دیا مجھ کو ا سے سے کوئی سوال مت کرنا ا سے نے انکار کر دیا مجھ کو ایک انسان ہی تو مانگا تھا اس کا کا کو بھی مار کر دیا مجھ کو
Himanshi babra KATIB
51 likes
دل محبت ہے وہ ہے وہ مبتلا ہوں جائے جو ابھی تک لگ ہوں سکا ہوں جائے تجھ ہے وہ ہے وہ یہ عیب ہے کہ خوبی ہے جو تجھے دیکھ لے ترا ہوں جائے خود کو ایسی جگہ چھپایا ہے کوئی ڈھونڈے تو لاپتہ ہوں جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں سایہ دیوار سے جدا ہوں جائے ب سے حقیقت اتنا کہے مجھے جاناں سے اور پھروں کال منقطع ہوں جائے دل بھی کیسا درخت ہے حافی جو تری یاد سے ہرا ہوں جائے
Tehzeeb Hafi
65 likes
More from Bashir Badr
فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے
Bashir Badr
1 likes
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
پھول برسے کہی شبنم کہی گوہر برسے اور ا سے دل کی طرف برسے تو پتھر برسے کوئی بادل ہوں تو تھم جائے م گر خوشی مری ایک رفتار سے دن رات برابر برسے برف کے پھولوں سے روشن ہوئی تاریک ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کی شاخ سے چنو مہ و اندھیرا برسے پیار کا گیت اندھیروں پہ اجالوں کی فوار اور خوبصورت کی صدا شیشے پہ پتھر برسے بارشیں چھت پہ کھلی آبرو پہ ہوتی ہیں م گر غم حقیقت ساون ہے جو ان کمروں کے اندر برسے
Bashir Badr
4 likes
مری غزل کی طرح ا سے کی بھی حکومت ہے تمام ملک ہے وہ ہے وہ حقیقت سب سے خوبصورت ہے کبھی کبھی کوئی انسان ایسا لگتا ہے پرانی شہر ہے وہ ہے وہ چنو نئی عمارت ہے جمی ہے دیر سے کمرے ہے وہ ہے وہ غیبتوں کی نشست فضا ہے وہ ہے وہ گرد ہے ماحول ہے وہ ہے وہ کدورت ہے بے حد دنوں سے مری ساتھ تھی م گر کل شام مجھے پتا چلا حقیقت کتنی خوبصورت ہے یہ زائران علی گڑھ کا خاص تحفہ ہے مری غزل کا تبرک دلوں کی برکت ہے
Bashir Badr
4 likes
ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे
Bashir Badr
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







