شام آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنکھ پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پانی سرا فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھلملااتے ہیں کشتیوں ہے وہ ہے وہ دیے پل کھڑے سو رہے ہیں پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک ہوں جائے گی زمین اک دن آسمانوں کی آسمانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہوا ہے اسے ک ہاں ڈھونڈوں آگ ہے وہ ہے وہ خاک ہے وہ ہے وہ کہ پانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ پہاڑوں کی طرح سامنے آ ان دنوں ہے وہ ہے وہ بھی ہوں روانی ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں
Tehzeeb Hafi
105 likes
نہیں تھا اپنا م گر پھروں بھی اپنا اپنا لگا کسی سے مل کے بے حد دیر بعد اچھا لگا تمہیں لگا تھا ہے وہ ہے وہ مر جاؤں گا تمہارے بغیر بتاؤ پھروں تمہیں میرا مزاق کیسا لگا تجوریوں پہ نظر اور لوگ رکھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آسمان چرا لوں گا جب بھی موقع لگا مہ لقا ہے بھری الماریاں بڑے دل سے بتاتی ہے کہ محبت ہے وہ ہے وہ کس کا کتنا لگا
Tehzeeb Hafi
94 likes
More from Bashir Badr
مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا
Bashir Badr
1 likes
شعر میرے کہاں تھے کسی کے لیے میں نے سب کچھ لکھا ہے تمہارے لیے اپنے دکھ سکھ بہت خوبصورت رہے ہم جیے بھی تو اک دوسرے کے لیے ہم سفر نے میرا ساتھ چھوڑا نہیں اپنے آنسو دیے راستے کے لیے اس حویلی میں اب کوئی رہتا نہیں چاند نکلا کسے دیکھنے کے لیے زندگی اور میں دو الگ تو نہیں میں نے سب پھول کاٹے اسی سے لیے شہر میں اب میرا کوئی دشمن نہیں سب کو اپنا لیا میں نے تیرے لیے ذہن میں تتلیاں اڑ رہی ہیں بہت کوئی دھاگا نہیں باندھنے کے لیے ایک تصویر پڑھتے میں ایسی بنی اگلے پچھلے زمانوں کے چہرے لیے
Bashir Badr
6 likes
اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو اب بھی یہ قدرت ک ہاں ہے آدمی کی ذات کو جن کا سارا جسم ہوتا ہے ہماری ہی طرح پھول کچھ ایسے بھی کھلتے ہیں ہمیشہ رات کو ایک اک کر کے سبھی کپڑے بدن سے گر چکے صبح پھروں ہم یہ کفن پہنائیں گے جذبات کو پیچھے پیچھے رات تھی تاروں کا اک لشکر لیے ریل کی پٹری پہ سورج چل رہا تھا رات کو لو و خاک و بعد ہے وہ ہے وہ بھی لہر حقیقت آ جائے ہے سرخ کر دیتی ہے دم بھر ہے وہ ہے وہ جو پیلی دھات کو صبح بستر بند ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لپٹ جاتے ہیں ہم اک سفر کے بعد پھروں کھلتے ہیں آدھی رات کو سر پہ سورج کے ہمارے پیار کا سایہ رہے مامتا کا جسم مانگے زندگی کی بات کو
Bashir Badr
5 likes
فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے
Bashir Badr
1 likes
پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے
Bashir Badr
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







