ghazalKuch Alfaaz

شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا اب ان دنوں مری غزل خوشبو کی اک تصویر ہے ہر لفظ غنچے کی طرح کھیل کر ترا چہرہ ہوا شاید اسے بھی لے گئے اچھے دنوں کے بندھو ا سے باغ ہے وہ ہے وہ اک پھول تھا تیری طرح ہنستا ہوا ہر چیز ہے بازار ہے وہ ہے وہ ا سے ہاتھ دے ا سے ہاتھ لے عزت گئی شہرت ملی رسوا ہوئے چرچا ہوا مندیر گئے مسجد گئے پیروں فقیروں سے ملے اک ا سے کو پانے کے لیے کیا کیا کیا کیا کیا ہوا انمول اندھیرا پیار کے دنیا چرا کر لے گئی دل کی حویلی کا کوئی دروازہ تھا ٹوٹا ہوا برسات ہے وہ ہے وہ دیوار و در کی ساری تحریریں مٹیں دھویا بے حد مٹتا نہیں تقدیر کا لکھا ہوا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

More from Bashir Badr

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا

Bashir Badr

1 likes

خاندانی رشتوں ہے وہ ہے وہ 9 رقابت ہے بہت گھر سے نکلو تو یہ دنیا خوبصورت ہے بہت اپنے قائم ہے وہ ہے وہ بہت مغرور جو مشہور ہے دل میرا کہتا ہے اس کا لڑکی ہے وہ ہے وہ چاہت ہے بہت ان کے چہرے چاند تاروں کی طرح روشن رہے جن غریبوں کے یہاں حسن قناعت ہے بہت ہم سے ہوں سکتی نہیں دنیا کی دنیا داریاں عشق کی دیوار کے سائے ہے وہ ہے وہ راحت ہے بہت دھوپ کی چادر مری سورج سے کہنا بھیج دے غربتوں کا دور ہے جاڑوں کی شدت ہے بہت ان اندھیروں ہے وہ ہے وہ جہاں سہمی ہوئی تھی یہ زمیں رات سے تنہا لڑا جگنو ہے وہ ہے وہ ہمت ہے بہت

Bashir Badr

2 likes

ادا سے آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے ہیں یہ موتیوں کی طرح سیپیوں ہے وہ ہے وہ پالتے ہیں گھنے دھوئیں ہے وہ ہے وہ فرشتے بھی آنکھ ملتے ہیں تمام رات کھجوروں کے پیڑ جلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاہراہ نہیں راستے کا پتھر ہوں ی ہاں سوار بھی پیدل اتر کے چلتے ہیں ا نہیں کبھی لگ بتانا ہے وہ ہے وہ ان کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت لوگ پھول سمجھ کر مجھے مسلتے ہیں کئی ستاروں کو ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں بچپن سے کہی بھی جاؤں مری ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہ ایک پیڑ ہے آ ا سے سے مل کے رو لیں ہم ی ہاں سے تری مری راستے بدلتے ہیں

Bashir Badr

5 likes

اب کسے چاہیں کسے ڈھونڈا کریں حقیقت بھی آخر مل گیا تو اب کیا کریں ہلکی ہلکی بارشیں ہوتی رہیں ہم بھی پھولوں کی طرح بھیگا کریں آنکھ مونڈے ا سے اولیں دھوپ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیر تک بیٹھے اسے سوچا کریں دل محبت دین دنیا شاعری ہر دریچے سے تجھے دیکھا کریں گھر نیا کپڑے نئے برتن نئے ان پرانی کاغذوں کا کیا کریں

Bashir Badr

6 likes

فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے

Bashir Badr

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.