ghazalKuch Alfaaz

ug raha hai dar-o-divar pe sabza 'ghhalib' ham bayaban men hain aur ghar men bahar aai hai fursat-e-aina-e-sad-rang-e-khud-arai hai roz-o-shab yak kaf-e-afsos-e-tamashai hai vahshat-e-zakhm-e-vafa dekh ki sar-ta-sar dil bakhiya juun jauhar-e-teghh afat-e-girai hai shama-asa che sar-e-da'va va ku pa-e-sabat gul-e-sad-sho'la ba-yak -jeb-e-shakebai hai nala-e-khunin varaq-o-dil gul-e-mazmun-e-shafaq chaman-ara-e-chamanar-e-nafas vahshat-e-tanhai hai bu-e-gul fitna-e-bedar-o-chaman jama-e-khvab vasl bar rang-e-tapish kisvat-e-rusvai hai sharm tufan-e-khizan rang-e-tarab-gah-e-bahar mahtabi ba-kaf-e-chashm-e-tamashai hai baghh-e-khamoshi-e-dil se sukhan-e-'ishq 'asad' nafas-e-sokhta ramz-e-chaman imai hai ug raha hai dar-o-diwar pe sabza 'ghaalib' hum bayaban mein hain aur ghar mein bahaar aai hai fursat-e-aina-e-sad-rang-e-khud-arai hai roz-o-shab yak kaf-e-afsos-e-tamashai hai wahshat-e-zakhm-e-wafa dekh ki sar-ta-sar dil bakhiya jun jauhar-e-tegh aafat-e-girai hai shama-asa che sar-e-da'wa wa ku pa-e-sabaat gul-e-sad-sho'la ba-yak -jeb-e-shakebai hai nala-e-khunin waraq-o-dil gul-e-mazmun-e-shafaq chaman-ara-e-chamanar-e-nafas wahshat-e-tanhai hai bu-e-gul fitna-e-bedar-o-chaman jama-e-khwab wasl bar rang-e-tapish kiswat-e-ruswai hai sharm tufan-e-khizan rang-e-tarab-gah-e-bahaar mahtabi ba-kaf-e-chashm-e-tamashai hai bagh-e-khamoshi-e-dil se sukhan-e-'ishq 'asad' nafas-e-sokhta ramz-e-chaman imai hai

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

More from Mirza Ghalib

رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

Mirza Ghalib

0 likes

حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز

Mirza Ghalib

0 likes

غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی

Mirza Ghalib

0 likes

حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں چھوڑا نہ رشک نے کہ تری گھر کا نام لوں ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں ہے کیا جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرے کیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر تراش کو میں لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں پھروں بے خودی میں بھول گیا راہ کو یار جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہر کا سمجھا ہوں دل پذیر متاع ہنر کو میں غالب خدا کرے کہ سوار سمند ناز دیکھوں علی بہادر عالی گوہر کو میں

Mirza Ghalib

3 likes

چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے یہ ا گر چاہیں تو پھروں کیا چاہیے صحبت رنداں سے واجب ہے حذر جا مے اپنے کو کھینچا چاہیے چاہنے کو تری کیا سمجھا تھا دل بارے اب ا سے سے بھی سمجھا چاہیے چاک مت کر زیب مہ طلعتوں کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے دوستی کا پردہ ہے بیگانگی منا چھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے دشمنی نے مری کھویا غیر کو ک سے دودمان دشمن ہے دیکھا چاہیے اپنی رسوائی ہے وہ ہے وہ کیا چلتی ہے سعی یار ہی ہنگامہ آرا چاہیے منحصر مرنے پہ ہوں ج سے کی امید نا امی گرا ا سے کی دیکھا چاہیے غافل ان چشم خوباں کے واسطے چاہنے والا بھی اچھا چاہیے چاہتے ہیں خوب رویاں کو سرسری آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

Mirza Ghalib

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.