سمے کی انتہا تلک سمے کی جست امیر امام ہست کی بود امیر امام بود کی ہست امیر امام ہجر کا ماہتاب ہے نیند لگ کوئی خواب ہے تش لگ لبی شراب ہے نہشے ہے وہ ہے وہ مست امیر امام سخت بے حد ہے مرحلہ دیکھیے کیا ہوں فیصلہ تیغ بکف حقیقتیں قلب بدست امیر امام زخم بے حد ملے م گر آج بھی ہے اٹھائے سر دیکھ جہان فت لگ گر تیری شکست امیر امام ا سے کے تمام ہم سفر نیند کے ساتھ جا چکے خواب کدے ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو خواب پرست امیر امام
Related Ghazal
تمہارا ہجر منا لوں ا گر اجازت ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی سے لگا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیمان ب سے اپنا سمے گنوا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے ہجر کی شب ہاں یہ کار ہے وہ ہے وہ جاناں کوئی چراغ جلا لوں ا گر اجازت ہوں جنوں وہی ہے وہی ہے م گر ہے شہر نیا ی ہاں بھی شور مچا لوں ا گر اجازت ہوں کسے ہے خواہش مرہم گری م گر پھروں بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے زخم دکھا لوں ا گر اجازت ہوں تمہارے یاد ہے وہ ہے وہ جینے کی آرزو ہے ابھی کچھ اپنا حال بے زار ا گر اجازت ہوں
Jaun Elia
45 likes
ہر اندھیرا روشنی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ج سے کو دیکھو شاعری ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو ہم کو مر جانے کی فرصت کب ملی سمے سارا زندگی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو اپنا مے خا لگ بنا سکتے تھے ہم اتنا بڑھانے میکشی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو خود سے اتنی دور جا نکلے تھے ہم اک زما لگ واپسی ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو
Mehshar Afridi
53 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
टूटने पर कोई आए तो फिर ऐसा टूटे कि जिसे देख के हर देखने वाला टूटे अपने बिखरे हुए टुकड़ों को समेटे कब तक एक इंसान की ख़ातिर कोई कितना टूटे कोई टुकड़ा तेरी आँखों में न चुभ जाए कहीं दूर हो जा कि मेरे ख़्वाब का शीशा टूटे मैं किसी और को सोचूँ तो मुझे होश आए मैं किसी और को देखूँ तो ये नश्शा टूटे रंज होता है तो ऐसा कि बताए न बने जब किसी अपने के बाइ'से कोई अपना टूटे पास बैठे हुए यारों को ख़बर तक न हुई हम किसी बात पे इस दर्जा अनोखा टूटे इतनी जल्दी तो सँभलने की तवक़्क़ो' न करो वक़्त ही कितना हुआ है मेरा सपना टूटे दाद की भीक न माँग ऐ मेरे अच्छे शाएर जा तुझे मेरी दुआ है तेरा कासा टूटे तू उसे किस के भरोसे पे नहीं कात रही चर्ख़ को देखने वाली तेरा चर्ख़ा टूटे वर्ना कब तक लिए फिरता रहूँ उस को 'जव्वाद' कोई सूरत हो कि उम्मीद से रिश्ता टूटे
Jawwad Sheikh
31 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
More from Ameer Imam
کہ چنو کوئی مسافر وطن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی ہوئی جو شام تو پھروں سے تھکن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی لگ آبشار لگ صحرا لگا سکے قیمت ہم اپنی پیا سے کو لے کر دہن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی سفر طویل بے حد تھا کسی کی آنکھوں تک تو ا سے کے بعد ہم اپنے بدن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنے سبھی چراغ اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کسی طرح تو فضاؤں کی خموشی ٹوٹے تو پھروں سے شور سلاسل چلن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی امیر امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہے تمہارے شعر اسی بانکپن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی
Ameer Imam
2 likes
ان کو خلا ہے وہ ہے وہ کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجا لگ چاہیے حقیقت کام رہ کے کرنا پڑا شہر ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجنوں کو ج سے کے واسطے ویرا لگ چاہیے ا سے زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اترانا چاہیے تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی اے بیوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے ہے ہجر تو کباب لگ خانے سے کیا اصول گر عشق ہے تو کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر جانا چاہیے دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن ا گر ملے دھوکہ حسین سا تو اسے خا لگ چاہیے بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہوں جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے ا سے شاعری ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں چار چھے کے لیے دلدار چاہیے کوئی دیوا لگ چاہیے
Ameer Imam
6 likes
ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کو ب سمے صبح پھروں ان کو پلٹ کے سوتا ہوں تلاش دھوپ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں سارا دن خود کو تمام رات ستاروں ہے وہ ہے وہ بٹ کے سوتا ہوں ک ہاں سکون کہ شب و روز گھومنا ا سے کا ذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں تری بدن کی خلاوں ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والا اک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں
Ameer Imam
4 likes
یوں مری ہونے کو مجھ پر آشکار ا سے نے کیا مجھ ہے وہ ہے وہ پوشیدہ کسی دریا کو پار ا سے نے کیا پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناو پر کاغذ کی پھروں مجھ کو سوار ا سے نے کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا اک آواز مجھ کو خموشی سے توڑ کر کرچیوں کو دیر تک مری شمار ا سے نے کیا دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا تو رات آئی تو مری بستر کو دار ا سے نے کیا ج سے کو ا سے نے روشنی سمجھا تھا مری دھوپ تھی شام ہونے کا مری پھروں انتظار ا سے نے کیا دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھے بُن گیا تو جب ہے وہ ہے وہ تو مجھ کو تار تار ا سے نے کیا
Ameer Imam
1 likes
ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے ہوتی ہے جو بھی جرأت نگاہ عشق ہے دربان بن کے سر کو جھکائے کھڑی ہے عقل دربار دل کہ ج سے کا شہنشاہ عشق ہے سن اے غرور حسن ترا تذکرہ ہے کیا اسرار کائنات سے آگاہ عشق ہے جببار بھی رحیم بھی قہار بھی وہی سارے اسی کے نام ہیں اللہ عشق ہے محنت کا پھل ہے صدقہ و خیرات کیوں کہی جینے کی ہم جو پاتے ہیں تنخواہ عشق ہے چہرے فقط پڑاو ہیں منزل نہیں تری اے کاروان عشق تری راہ عشق ہے ایسے ہیں ہم تو کوئی ہماری غلطیاں نہیں للہ عشق ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ واللہ عشق ہے ہوں حقیقت امیر امام کہ فرہاد و قی سے ہوں آؤ کہ ہر سلطان کی درگاہ عشق ہے
Ameer Imam
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Imam.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Imam's ghazal.







