ghazalKuch Alfaaz

یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے وہی شخص جس پہ اپنے دل و جاں نثار کر دوں وہ اگر خفا نہیں ہے تو ضرور بد گماں ہے کبھی پا کے تجھ کو کھونا کبھی کھو کے تجھ کو پانا یہ جنم جنم کا رشتہ ترے میرے درمیاں ہے مرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر میں وہی دکھ بھری زمیں ہے وہی غم کا آسماں ہے میں اسی گماں میں برسوں بڑا مطمئن رہا ہوں ترا جسم بے تغیر مرا پیار جاوداں ہے انہیں راستوں نے جن پر کبھی تم تھے ساتھ میرے مجھے روک روک پوچھا ترا ہم سفر کہاں ہے

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

More from Bashir Badr

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا

Bashir Badr

1 likes

جب سحر چپ ہوں ہنسا لو ہم کو جب اندھیرا ہوں جلا لو ہم کو ہم حقیقت ہیں نظر آتے ہیں داستانو ہے وہ ہے وہ چھپا لو ہم کو خون کا کام رواں رہنا ہے ج سے جگہ چاہو بہا لو ہم کو دن لگ پا جائے کہی شب کا راز صبح سے پہلے اٹھا لو ہم کو ہم زمانے کے ستائے ہیں بے حد اپنے سینے سے لگا لو ہم کو سمے کے ہونٹ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو لیںگے ان کہے بول ہیں گا لو ہم کو

Bashir Badr

1 likes

شعر میرے کہاں تھے کسی کے لیے میں نے سب کچھ لکھا ہے تمہارے لیے اپنے دکھ سکھ بہت خوبصورت رہے ہم جیے بھی تو اک دوسرے کے لیے ہم سفر نے میرا ساتھ چھوڑا نہیں اپنے آنسو دیے راستے کے لیے اس حویلی میں اب کوئی رہتا نہیں چاند نکلا کسے دیکھنے کے لیے زندگی اور میں دو الگ تو نہیں میں نے سب پھول کاٹے اسی سے لیے شہر میں اب میرا کوئی دشمن نہیں سب کو اپنا لیا میں نے تیرے لیے ذہن میں تتلیاں اڑ رہی ہیں بہت کوئی دھاگا نہیں باندھنے کے لیے ایک تصویر پڑھتے میں ایسی بنی اگلے پچھلے زمانوں کے چہرے لیے

Bashir Badr

6 likes

سسکتے لو ہے وہ ہے وہ کہ سے کی صدا ہے کوئی دریا کی تہ ہے وہ ہے وہ رو رہا ہے سویرے میری ان آنکھوں نے دیکھا خدا چاروں طرف بکھرا ہوا ہے اندھیری رات کا تنہا مسافر مری پلکوں پہ اب سہما کھڑا ہے حقیقت سرخ مچھلی جانتی ہے سمندر کیسا بوڑھا دیوتا ہے سمیٹو اور سینے ہے وہ ہے وہ چھپا لو یہ سناٹا بہت پھیلا ہوا ہے پکے گہیوں کی خوشبو چیختی ہے بدن اپنا سنہرا ہوں چکا ہے ہماری شاخ کا نو خیز پتہ ہوا کے ہونٹ 9 چومتا ہے مجھے ان نیلی آنکھوں نے بتایا تمہارا نام پانی پر لکھا ہے

Bashir Badr

0 likes

پتھر کے ج گر والو غم ہے وہ ہے وہ حقیقت روانی ہے خود راہ بنا لےگا بہتا ہوا پانی ہے اک ذہن پریشاں ہے وہ ہے وہ خواب غزلستاں ہے پتھر کی حفاظت ہے وہ ہے وہ شیشے کی جوانی ہے دل سے جو چھٹے بادل تو آنکھ ہے وہ ہے وہ ساون ہے ٹھہرا ہوا دریا ہے بہتا ہوا پانی ہے ہم رنگ دل پر خوں ہر لالہ صحرائی گیسو کی طرح مضطر اب رات کی رانی ہے ج سے سنگ پہ نظریں کیں خورشید حقیقت ہے ج سے چاند سے منا موڑا پتھر کی کہانی ہے اے پیر خرد مند دل کی بھی ضرورت ہے یہ شہر غزالاں ہے یہ ملک جوانی ہے غم وجہ فگار دل غم وجہ قرار دل آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو کبھی پانی ہے ا سے حوصلہ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا ہنسکر کوئی پوچھےگا کیا جان گنوائی ہے دن تلخ حقائق کے صحراؤں کا سورج ہے شب گیسو افسا لگ یادوں کی کہانی ہے حقیقت حسن جسے ہم نے رسوا کیا دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نادیدہ حقیقت ہے نا گفتہ کہانی ہے حقیقت مصرع آوارہ دیوانوں پہ بھاری ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تری گیسو کی بے ربط کہانی ہے ہم خوشبو آوارہ ہم نور پریشاں ہیں اے بدر مقدر ہے وہ ہے

Bashir Badr

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Bashir Badr.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.