ye ruke ruke se aansu ye dabi dabi si aahen yunhi kab talak khudaya ghham-e-zindagi nibahen kahin zulmaton men ghir kar hai talash-e-dasht-e-rahbar kahin jagmaga uthi hain mire naqsh-e-pa se rahen tire khanuman-kharabon ka chaman koi na sahra ye jahan bhi baith jaaen vahin in ki bargahen kabhi jada-e-talab se jo phira huun dil-shikasta tiri aarzu ne hans kar vahin daal di hain banhen mire ahd men nahin hai ye nishan-e-sar-bulandi ye range hue amame ye jhuki jhuki kulahen ye ruke ruke se aansu ye dabi dabi si aahen yunhi kab talak khudaya gham-e-zindagi nibahen kahin zulmaton mein ghir kar hai talash-e-dasht-e-rahbar kahin jagmaga uthi hain mere naqsh-e-pa se rahen tere khanuman-kharabon ka chaman koi na sahra ye jahan bhi baith jaen wahin in ki bargahen kabhi jada-e-talab se jo phira hun dil-shikasta teri aarzu ne hans kar wahin dal di hain banhen mere ahd mein nahin hai ye nishan-e-sar-bulandi ye range hue amame ye jhuki jhuki kulahen
Related Ghazal
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
سب نے دل سے اسے اتارا تھا حقیقت مری کب تھی اس کا کو مارا تھا پیروں ہے وہ ہے وہ گرکے جیتا تھا ج سے کو اس کا کا کو پانے ہے وہ ہے وہ خود کو ہارا تھا تری مری ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو سب کچھ ایک ٹائم تھا سب ہمارا تھا ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ دل جلے ہے اب جس کا چہرہ نہیں بے شرط تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے حقیقت کھویا جو میرا نہیں تھا جاناں نے حقیقت کھویا جو تمہارا تھا جیت سکتا تھا ا سے سے ہے وہ ہے وہ دھڑکنا پر بڑے حوصلے سے ہارا تھا
Himanshi babra KATIB
43 likes
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانا کیے بغیر ا سے کے بغیر ا سے کی تمنا کیے بغیر امبار ا سے کا پردہ حرمت بنا میاں دیوار تک نہیں گری پردہ کیے بغیر یاراں حقیقت جو ہے میرا مسیحا جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بستر خیال پہ ڈیوٹی ہوں ا سے کے پا سے صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر ا سے کا ہے جو بھی کچھ ہے میرا اور ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے وعدہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر ب سے اتنی ہی عرض ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں لگ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے جاناں چھوڑ یوں لگ شہر کو صحرا کیے بغیر ان آنگنوں ہے وہ ہے وہ کتنا سکون و سرور تھا آرائش نظر تری پروا کیے بغیر یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ ہے خوش گوار بے شرط کیے بغیر گریہ کناں کی فرد ہے وہ ہے وہ اپنا نہیں ہے نام ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر آخر ہیں کون لوگ جو بخشی
Jaun Elia
36 likes
ا سے نے دو چار کر دیا مجھ کو ذہنی بیمار کر دیا مجھ کو کیوں نہیں دسترسی ہے وہ ہے وہ تو مری کیوں طلبگار کر دیا مجھ کو کبھی پتھر کبھی خدا ا سے نے چاہا جو یار کر دیا مجھ کو ا سے سے کوئی سوال مت کرنا ا سے نے انکار کر دیا مجھ کو ایک انسان ہی تو مانگا تھا اس کا کا کو بھی مار کر دیا مجھ کو
Himanshi babra KATIB
51 likes
More from Majrooh Sultanpuri
جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا تو سوز جاناں دل ہے وہ ہے وہ سوز دیگران بنتا گیا تو رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسم چمن دھیرے دھیرے نغمہ دل بھی فغاں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل م گر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جب جانوں کہ بھر دے ساغر ہر خاص و عام یوں تو جو آیا وہی پیر مغاں بنتا گیا تو ج سے طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق بچھاؤ سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا تو شرح غم تو بڑھوا ہوتی گئی ا سے کے حضور لفظ جو منا سے لگ نکلا داستان بنتا گیا تو دہر ہے وہ ہے وہ مجروح کوئی جاویداں مضمون ک ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسے چھوتا گیا تو حقیقت جاویداں بنتا گیا تو
Majrooh Sultanpuri
1 likes
یوں تو آپ سے ہے وہ ہے وہ بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں ملنے والے کہی الفت ہے وہ ہے وہ جدا ہوتے ہیں ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ غضب چیز محبت والے درد خود مشعل جاں ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں حال دل مجھ سے لگ پوچھو مری نظریں دیکھو راز دل کے تو نگا ہوں سے ادا ہوتے ہیں ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں ایسے ہن سے ہن سے کے لگ دیکھا کروں سب کی جانب لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں
Majrooh Sultanpuri
4 likes
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح ا سے کوئے تشنہ لبی ہے وہ ہے وہ بے حد ہے کہ ایک جام ہاتھ آ گیا تو ہے دولت بیدار کی طرح حقیقت تو کہی ہے اور م گر دل کے آ سے پا سے پھرتی ہے کوئی اجازت نگہ یار کی طرح سیدھی ہے راہ شوق پہ یوںہی کہی کہی خم ہوں گئی ہے گیسوئے دلدار کی طرح بے تیشہ نظر لگ چلو راہ رفتگاں ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں زخم ج گر ہوئے لب و رخسار کی طرح مجروح لکھ رہے ہیں حقیقت اہل وفا کا نام ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح
Majrooh Sultanpuri
0 likes
محرومی تاثیر کی تدبیر لگ دیکھ ہوں ہی جائے گی کوئی جینے کی تلخی تقریر لگ دیکھ حادثے اور بھی گزرے تری الفت کے سوا ہاں مجھے دیکھ مجھے اب مری تصویر لگ دیکھ یہ ذرا دور پہ منزل یہ اجالا یہ سکون خواب کو دیکھ ابھی خواب کی تعبیر لگ دیکھ دیکھ زندان سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھروں پاؤں کی زنجیر لگ دیکھ کچھ بھی ہوں پھروں بھی دکھے دل کی صدا ہوں نادان مری باتوں کو سمجھ شاعر آوارہ مزاج لگ دیکھ وہی مجروح وہی اٹھا کوئی دل گیر ہے تری بزم سے کانپتا لگ دیکھ
Majrooh Sultanpuri
1 likes
کوئی ہم دم لگ رہا کوئی سہارا لگ رہا ہم کسی کے لگ رہے کوئی ہمارا لگ رہا شام تنہائی کی ہے آوےگی عشق دل منزل کیسے جو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا لگ رہا اے نظارہ لگ ہنسو مل لگ سکوںگا جاناں سے جاناں مری ہوں لگ سکے ہے وہ ہے وہ بھی تمہارا لگ رہا کیا بتاؤں ہے وہ ہے وہ ک ہاں یوںہی چلا جاتا ہوں جو مجھے پھروں سے بلا لے حقیقت اشارہ لگ رہا
Majrooh Sultanpuri
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Majrooh Sultanpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Majrooh Sultanpuri's ghazal.







