یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں
Related Ghazal
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
More from Rahat Indori
تمہارے نام پر ہے وہ ہے وہ نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی نظر شعلوں پہ رکھی تھی زبان پتھر پہ رکھی تھی ہمارے خواب تو شہروں کی سڑکوں پر بھٹکتے تھے تمہاری یاد تھی جو رات بھر بستر پہ رکھی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا عزم لے کر منزلوں کی سمت نکلا تھا مشقت ہاتھ پہ رکھی تھی قسمت گھر پہ رکھی تھی انہی سانسوں کے چکر نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دن د کھائے تھے ہمارے پاؤں کی مٹی ہمارے سر پہ رکھی تھی سحر تک جاناں جو آ جاتے تو منظر دیکھ سکتے تھے دیے پلکوں پہ رکھے تھے شکن بستر پہ رکھی تھی
Rahat Indori
7 likes
شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری
Rahat Indori
4 likes
سر پر سات آکاش زمیں پر سات سمندر بکھرے ہیں آنکھیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں اتنے منظر بکھرے ہیں زندہ رہنا کھیل نہیں ہے اس کا آباد خرابے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بھی 9 ٹوٹ گیا تو ہے ہم بھی 9 بکھرے ہیں اس کا کا بستی کے لوگوں سے جب باتیں کیں تو یہ جانا دنیا بھر کو جوڑنے والے اندر اندر بکھرے ہیں ان راتوں سے اپنا رشتہ جانے کیسا رشتہ ہے نیندیں کمروں ہے وہ ہے وہ جاگی ہیں خواب چھتوں پر بکھرے ہیں آنگن کے معصوم شجر نے ایک کہانی لکھی ہے اتنے پھل شاخوں پہ نہیں تھے جتنے پتھر بکھرے ہیں ساری دھرتی سارے موسم ایک ہی چنو لگتے ہیں آنکھوں آنکھوں قید ہوئے تھے منظر منظر بکھرے ہیں
Rahat Indori
2 likes
چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو
Rahat Indori
19 likes
صرف سچ اور جھوٹ کی میزان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے ہم بہادر تھے م گر میدان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے نڈھال نے پھروں اندھیروں سے لڑائی جیت لی چاند سورج گھر کے روشن دان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے دھیرے دھیرے ساری کرنیں خود کشی کرنے مے کش ہم صحیفہ تھے م گر جزدان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے بند کمرے کھول کر سچائیاں رہنے مے کش خواب کچی دھوپ تھے دالان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے صرف اتنا فاصلہ ہے زندگی سے موت کا شاخ سے گرفت گئے گل دان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے زندگی بھر اپنی گنگی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی گھر کے قیمتی سامان ہے وہ ہے وہ رکھے رہے
Rahat Indori
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







