ghazalKuch Alfaaz

zamin ke tukde kiye asman bantega vo shah-e-vaqt hai saara jahan bantega rakhe rahega vo tiron pe dastaras apni hamare biich to khali kaman bantega jo kaat le gaya fasl-e-yaqin kheton se palat ke aaega shakh-e-guman bantega katar ke pankh hamare daron ko khol diya khabar mili thi ki unchi udaan bantega kahan vo dard ka rishta raha salamat ab jo haath thaam ke saari takan bantega tamam chehre dhuan ho gae 'tabassum' jab to kis ke biich vo shahr-e-aman bantega zamin ke tukde kiye aasman bantega wo shah-e-waqt hai sara jahan bantega rakhe rahega wo tiron pe dastaras apni hamare bich to khali kaman bantega jo kat le gaya fasl-e-yaqin kheton se palat ke aaega shakh-e-guman bantega katar ke pankh hamare daron ko khol diya khabar mili thi ki unchi udan bantega kahan wo dard ka rishta raha salamat ab jo hath tham ke sari takan bantega tamam chehre dhuan ho gae 'tabassum' jab to kis ke bich wo shahr-e-aman bantega

Related Ghazal

بیتے رشتے تلاش کرتی ہے خوشبو غنچے تلاش کرتی ہے جب گزرتی ہے اس کا گلی سے صبا خط کے پرزے تلاش کرتی ہے اپنے ماضی کی جستجو ہے وہ ہے وہ بہار پیلے پتے تلاش کرتی ہے ایک امید بار بار آ کر اپنے ٹکڑے تلاش کرتی ہے بوڑھی پگڈنڈی شہر تک آ کر اپنے بیٹے تلاش کرتی ہے

Gulzar

7 likes

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

حقیقت نہیں میرا م گر ا سے سے محبت ہے تو ہے یہ ا گر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو ہے وہ ہے وہ نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا اب زمانے کی نظر ہے وہ ہے وہ یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا ہے وہ ہے وہ نے کہ حقیقت مل جائے مجھ کو ہے وہ ہے وہ اسے غیر لگ ہوں جائے حقیقت ب سے اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا تو پروا لگ گر تو کیا غلطیاں ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا ا سے کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا حقیقت ستاتا ہے مجھے پھروں بھی ا سے ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسمان دوریوں کے بعد بھی دونوں ہے وہ ہے وہ قربت ہے تو ہے

Deepti Mishra

29 likes

جاناں جو اب لوٹ آؤ تو کچھ بات بنے دل سے دل کا حال بتاؤ تو کچھ بات بنے بہت تنہا کٹ رہا ہے یہ زندگی کا سفر میرے قدم سے قدم ملاؤ تو کچھ بات بنے میرے حصے ہے وہ ہے وہ نہیں کچھ فقط اندھیرے کے سوا جاناں جو اک دیا جلاؤ تو کچھ بات بنے میرے ہی خوابوں کے ٹکڑے آنکھوں ہے وہ ہے وہ چبھنے لگے ہیں جاناں کوئی نیا خواب دکھاؤ تو کچھ بات بنے انساں کے گھروں کے دروازوں نے پرندوں کو بے گھر کر دیا نہہار ہر روز اک پودا لگاؤ تو کچھ بات بنے

Shashank Tripathi

1 likes

زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کر راستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کر ٹوٹ کر بکھری ہوئی تلوار کے ٹکڑے سمیٹ اور اپنے ہار جانے کا سبب معلوم کر جاگتی آنکھوں کے خوابوں کو غزل کا نام دے رات بھر کی کروٹوں کا ذائقہ منظوم کر شام تک لوٹ آؤںگا ہاتھوں کا خالی پن لیے آج پھروں نکلا ہوں ہے وہ ہے وہ گھر سے ہتھیلی چوم کر مت سکھا لہجے کو اپنی برچھیوں کے پینترے زندہ رہنا ہے تو لہجے کو ذرا معصوم کر

Rahat Indori

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kahkashan Tabassum.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kahkashan Tabassum's ghazal.