زندگی اک فلم ہے ملنا اندھیرا سین ہیں آنکھ کے آنسو تری کردار کی توہین ہیں ایک ہی موسم وہی منظر کھٹکنے لگتا ہے سچ یہ ہے ہم عادتن بدلاو کے شوقین ہیں نیند ہے وہ ہے وہ پلکوں سے مری رنگ چھلکے رات بھر آنکھ ہے وہ ہے وہ ہیں تتلیاں تو خواب بھی رنگین ہیں راہ تکتی رات کا یہ رنگ ہے تری بنا چاند بھی مایو سے ہے تارے بھی سب غمگین ہیں انگلیوں پہ گن مری تنہائیوں کے ہم سفر اک اداسی جام دوجا یاد تیری تین ہیں قائدے سے کب زیا ہے زندگی ہے وہ ہے وہ نے تجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ترا مجرم ہوں مری جرم تو سنگین ہیں خوشنما ماحول تھا کل تک تھرکتے تھے سبھی آج آخر کیا ہوا ہے لوگ کیوں غمگین ہیں
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sandeep Thakur.
Similar Moods
More moods that pair well with Sandeep Thakur's ghazal.







