nazmKuch Alfaaz

اگر جاناں نہ ہوتی اگر جاناں نہ ہوتی وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ تو مجھے کون کہتا ہے کہ کاڑھا بنا لو سنو کچھ دنوں کو میری بات مانو اور ٹھنڈی چیزوں سے خود کو بچا لو برف کا ٹھنڈا پانی جو منہ سے لگاتا بتاؤ مجھے کون نخرے دکھاتا بھلا کون کہتا ہے مجھے جاناں سے کوئی بات کرنی نہیں ہے جو مرضی ہے وہ ہے وہ آئی کروں جاناں مروں جاناں مجھے مار ڈالو کروں خوب من کی اگر جاناں نہ ہوتی تو ہے وہ ہے وہ کہ سے سے کہتا سنو جاناں سنو نا میری جان سن لو نہ روٹھو جاناں مجھ سے چلو مان جاؤ ہمارے لیے ہی تو باغ بہشت سے آدم اور حوا نکالے گئے ہیں کبھی ہم ملیںگے کبھی ہم بنیں گے ہم اک دوجے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہاتھوں کو دے کر اک منزل چنیں گے اسی پر چلیں گے اگر جاناں نہ ہوتی تو ہے وہ ہے وہ کہ سے سے کہتا ہوں تمہاری یہ گہری انٹلاٹک سی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کئی ٹائٹینک دفن ہوں رہے ہیں سنبھالو نہ جاناں بچا لو نہ جاناں مجھے ڈوبنے دو ہے وہ ہے وہ انٹیک بنوں گا اگر جاناں نہ ہوتی تو نظمیں یہ غزلیں کسے ہے وہ ہے وہ سناتا بھلا کون کہتا مٹکی نا

Related Nazm

انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں

Faiz Ahmad Faiz

27 likes

اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے

Sandeep Thakur

21 likes

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

ترک عشق سنو پریمکا اوئے انامیکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے نہیں لکھتا لکھتے ہوں گے جو لکھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں لکھتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں لکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں بکنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ میرا من کرتا ہے جاناں میری گیت ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو میری غزل ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری کویتا ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری نجم ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں جانوں جب ہے وہ ہے وہ تمہیں نہیں لکھتا اور ہے وہ ہے وہ کیوں لکھوں تمہارے لیے کیا کیا ہے جاناں نے ہمارے لیے وہی سمجھداری بھری باتیں جو جاناں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں جب بھی ملتی سمجھداری بھری باتیں کرتی اور ہے وہ ہے وہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ 9 ہی چپ رہتا تھا کیونکہ کبھی تو جواب نہیں ہوتے تھے اور کبھی ہے وہ ہے وہ سنکوچ جاتا مگر جاناں کرتی تھی کیوں ن

Rakesh Mahadiuree

22 likes

More from Anand Raj Singh

تعبیروں کی لاش ہم نے بھی کچھ خواب بنے تھے خواب ہمارے گنے چنے تھے خوابوں ہے وہ ہے وہ کب ہے وہ ہے وہ ہوتا تھا جاناں ہوتے تھے خوابوں ہے وہ ہے وہ جب بھی ہوتے تھے ہم ہوتے تھے خوابوں ہے وہ ہے وہ آنگن دیکھا تھا پیارا سا ساون دیکھا تھا تعبیروں پر بات ہوئی تھی دیکھو کچن کی چل کر جانب ش یوں جی کا مندیر رکھنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے شاید منا کیا تھا روٹھ گئی تھی جھگڑ پڑی تھی خوب لڑی تھی تمہیں پتا ہے ج سے کمرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہتا ہوں حقیقت کمرہ اب بھرا پڑا ہے خواب تو ضائع ہوں جاتے ہیں تعبیروں کی لاش پڑی ہے

Anand Raj Singh

6 likes

طیب حقیقت 9 مجھ سے کہتی تھی سنو جب ہم بڑے ہوں گے ہم اپنا گھر بسائیں گے تو اپنے بیٹے کو ہم پیار سے طیب بلائیں گے ابھی کچھ دن ہی بیتے تھے کہ طیب آ گیا تو اک دن یہ طیب حقیقت نہیں تھا جو میرے خوابوں کا حصہ تھا یہ طیب حقیقت تھا جو اس کا کی یادوں ہے وہ ہے وہ رہتا تھا نہیں سمجھے ہوں جو اب بھی سنو جاناں کو ہے وہ ہے وہ سمجھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی پہلی محبت کا دوجا عشق تھا پیارے سنا ہے اب حقیقت کہتی ہے سنو طیب سنو طیب کہو تو اپنے بیٹے کو آنند پکاریں اب

Anand Raj Singh

7 likes

تسلی تسلی اب بھی زندہ ہے م گر افسو سے اتنا ہے لگ کھل بات کرتی ہے لگ زیادہ سان سے لیتی ہے فقط دیمک زدہ ویران کمرے اور تنہا تیرگی ہے وہ ہے وہ سر جھکائے سان سے لیتی ہے کسی خوش با سے موسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ خموشی توڑتی ہے بولتی ہے خارج ہے و مری یار غم مت کر حقیقت اک دن لوٹ آوےگی عشق دل تجھے اپنا بنائےگی بتائے چار سالو ہے وہ ہے وہ نئے موسم نہیں دیکھے نئی خواہش نہیں اٹھی نیا کب سال آتا ہے یہ سارے ہی پرانی ہیں وہی دیمک زدہ ویران کمرہ وہی آغوش ہے وہ ہے وہ بیٹھی اداسی تسلی کے تماشے نے تماشا کر دیا مجھ کو تسلی کے تماشے مجھ سے اب دیکھے نہیں جاتے اماں یہ معاف ہے تسلی تری وعدے کی بیوہ ہے تسلی

Anand Raj Singh

1 likes

" कॉफ़ी" शाम की उदासी में एक कप की कॉफ़ी में एक शय जो कॉमन थी वो तुम्हारी यादें थीं यार मेरी काॅफ़ी से जो तुम्हारा रिश्ता था वो तुम्हारे माथे के रंग से भी गहरा था तुम जो चाह लेती तो इन में देख सकती थी दुनिया भर के रंगों को नीले क्या, गुलाबी क्या, काग़ज़ी और प्याज़ी भी मूँगिया सफ़ेदी भी अब तुम्हें पता भी है रंग मेरी काॅफ़ी का शरबती या शराबी है बा'द तेरे कॉफ़ी की शीशी तोड़ दी हम ने कॉफ़ी छोड़ दी हम ने

Anand Raj Singh

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Anand Raj Singh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Anand Raj Singh's nazm.