نجم اک بر سے اور کٹ گیا تو شریک روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا غصہ ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا
Related Nazm
جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں
ZafarAli Memon
25 likes
جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
جنم دن مبارک دن یہ سونے سے راتیں یہ رنگین مبارک اے مری سانسوں کی روانی تجھ کو تیرا جنم دن مبارک بھوریں مسکائیں پھولوں کی ڈالی ڈالی ہنسیں جب تو مسکائے تری ہونٹوں کی لالی ہنسیں میرا قتل کرے تری نین کجرارے کالے مجروح ہوئے نا جانے کتنے متوالے تجھ کو یہ بہاریں شوقین مبارک اے مری تصور کی رانی تجھ کو تیرا جنم دن مبارک
Vikas Sangam
15 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
کب تک خیر مناتے ہم الفت کے کوچوں سے ثابت کیسے بچکر آتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم بڑی بڑی باتیں کر دی تھیں ان پر جان لٹائیں گے حکم کریں حقیقت آسمان سے تارے بھی لے آئیں گے پر قسمت اور قدرت اک تھالی کے چٹے بٹے کھٹے تھے کوشش اپنی پوری رہتی پر انگور تو بےوقوف تھے بگڑا ڈھائیں جو ان کے منا کا ان کو چٹنی کھانی تھی بیچارا دل بیوقوف تھا کچھ اپنی نادانی تھی آزمائش سے دل کی خاطر کیا جگت سے ڈر جاتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ہم نے پوری چھیڑی لگائی م گر مئی نا مل پائی پھروں ہم نے امید چھوڑ دی خود سے نینسکھ ایک لڑائی اب باتوں ہے وہ ہے وہ نا آئیں گے ان چنو ہی بن جائیں گے ان کی جانب نا سر و ساماں نام اندھیرا کہ لائیں گے لیکن ہم تھے ساون والے اور اوپر سے دل کے چھالے چھوڑ ریوڑی ان کی خاطر ہم نے روکھی سوکھی کھائی اونٹ سو گیا تو الٹی کروٹ جمکے لی ا سے نے جمائی پڑتے اولوں ہے وہ ہے وہ اب دیکھو اپنا سر منڈواتے ہم ہم ٹھہرے بکرے کی اماں کب تک خیر مناتے ہم ادھر پری
Saurabh Mehta 'Alfaaz'
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's nazm.







