nazmKuch Alfaaz

پھروں ایک رات یوں ہی گزر جانے کو ہے پھروں ایک رات یوں ہی گزر جانے کو ہے خواب سارے ٹوٹ کر کہی صفر جانے کو ہیں گھونسلہ وہم و گمان کا پھروں سے اجڑ جانے کو ہے زخم حقیقت پرانی پھروں نکھر آنے کو ہیں سارا ج ہاں مانو گہری نیند ہے وہ ہے وہ سو گیا تو ہے یہ من میرا پھروں ان حسین یادوں ہے وہ ہے وہ کھو گیا تو ہے چنو پھروں کوئی نجم لکھنے کی ضد پہ اڑی ہے غنیم دل کی یہ عادت آج بھی بے حد بری ہے آنکھوں سے نیند پھروں گم سی گئی ہے سینے ہے وہ ہے وہ دھڑکن چنو تھم سی گئی ہے یہ چنچل ہوائیں یہ گم سوم گھٹائیں مجھے خود سے کہی دور لے جا رہی ہیں حقیقت سنسان سڑکیں حقیقت ویران گلیاں مجھے پھروں سے اپنے پا سے بلا رہی ہیں ہرایک پروانے کو چنو ب سے شمع کی تلاش ہے لہروں کے من ہے وہ ہے وہ بھی کوئی ادھوری سی پیا سے ہے ستارے تم تم اب چمک چمک کر تھک سے گئے ہیں پتے بھی پوری طرح شبنم سے لپٹ گئے ہیں سمے چنو ریت کی طرح فسل رہا ہے چاند تیزی سے فلک کی اور بڑھ رہا ہے یہ سکون اندھیرا پھروں سے اتر جانے کو ہے یہ خوبصورت نظارے پھروں سے بکھر جانے کو ہیں پھروں ایک ر

Rehaan4 Likes

Related Nazm

اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے

Sandeep Thakur

21 likes

انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں

Faiz Ahmad Faiz

27 likes

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے

Zubair Ali Tabish

19 likes

ہے وہ ہے وہ سپنوں ہے وہ ہے وہ آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے لفظوں کے ذریعے تمہیں سانسوں کے سلنڈر بھیجوں گا جو تمہیں ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ ہارنے نہیں دیں گے اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی خبریں گردش بھی کریں تو کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے اپنی نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں کچھ لوگ جاناں سے بچھڑ بھی جائیں تو حوصلہ مت شفت کیونکہ رات چاہے جتنی مرضی کالی ہوں گزر جانے کے لیے ہوتی ہے رنگ اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں اور زخم بھر جانے کے ہوتے ہیں

Tehzeeb Hafi

46 likes

ترک عشق سنو پریمکا اوئے انامیکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے نہیں لکھتا لکھتے ہوں گے جو لکھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں لکھتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں لکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں بکنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ میرا من کرتا ہے جاناں میری گیت ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو میری غزل ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری کویتا ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری نجم ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں جانوں جب ہے وہ ہے وہ تمہیں نہیں لکھتا اور ہے وہ ہے وہ کیوں لکھوں تمہارے لیے کیا کیا ہے جاناں نے ہمارے لیے وہی سمجھداری بھری باتیں جو جاناں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں جب بھی ملتی سمجھداری بھری باتیں کرتی اور ہے وہ ہے وہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ 9 ہی چپ رہتا تھا کیونکہ کبھی تو جواب نہیں ہوتے تھے اور کبھی ہے وہ ہے وہ سنکوچ جاتا مگر جاناں کرتی تھی کیوں ن

Rakesh Mahadiuree

22 likes

More from Rehaan

"अफ़सोस-2" मोहब्बत में तुम्हें जब उम्र भर का साथ चुभता है अगर ये इश्क़ भी मेरा महज़ इक झूठ लगता है तुम अपनी शाइरी को भी मेरी ग़लती बताते हो तो फिर बोलो कि मुझ से तुम मोहब्बत क्यूँ जताते हो कहो किस हक़ से अब मुझ से कोई भी चाह है तुमको बताओ क्यूँ मेरी ख़ुशियों की यूँ परवाह है तुम को चलो छोड़ो कहा तुम ने जो सब कुछ मानती हूँ मैं मेरा जो हाल होना है ब-ख़ूबी जानती हूँ मैं मुबारक हो तुम्हारी याद में मैं रोज़ जलती हूँ मोहब्बत वाकई अफ़सोस है अब मैं समझती हूँ

Rehaan

0 likes

ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر کو آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم ہوں رہی ہر ایک میل کی دوری پہ اپنے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن گزرا ہے آج پھروں ویسا ہی تھکان بھرا پر خود کو ابھی بے حد املان پا رہا ہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھایا ہے آکاش ہے وہ ہے وہ اندھیرا شوالہ اماوَ سے کا خیالوں ہے وہ ہے وہ تری روپ سا چاند بسا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مانکر ساکشی پیچھے چھوٹتے ہر ایک گاؤں کو اتیت کی سبھی رنجشوں سے کسک مٹا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کچھ کٹ چکی ہے کچھ ڈھلنی اب بھی باقی ہے سویرہ جلد ہونے کی امید لگا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر کو آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑھ رہی ہر ایک میل کی دوری پہ تری کیے حقیقت سبھی وعدے بھلا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات تری خوابوں سے نیند مکمل شاداب ہوئی جانے پھروں کیوں خود کو اتنا کلانت پا رہا ہوں ہے

Rehaan

1 likes

ایسا کیوں ہوتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے جاتا ہے کوئی تو لوٹ کے پھروں لگ حقیقت آتا دوبارہ ایسا کیوں ہوتا ہے چندا کے جانے سے لگتا فلک یہ سونا سارا دنیا یہ پیار کی دشمن ا سے سے لگ پار پاتا ہے دل ایسا کیوں ہوتا ہے مولا اپنوں سے ہار جاتا ہے دل ایسا کیوں ہوتا ہے دل جو بچھڑتے ہیں دن لگ گزرنے ہیں شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کٹتی ہیں راتیں لگ چھٹتی ہیں لگتا نہیں کہی دل یہ بیچارا ایسا کیوں ہوتا ہے رہتی ہیں آنکھیں نمہ ہوں نہیں پاتا ہے گزارا وعدے کیے تھے ا سے نے جو وعدے تھے ا سے کے سارے جھوٹے جتنا اسے تھا کل چاہا خود سے ہیں آج اتنے روٹھے ایسا کیوں ہوتا ہے بھول لگ چا ہوں تو دل کو مناؤں تو دل لگ سمجھتا ہے مجھ سے الجھتا ہے کرتا ہے ا سے پہ ہی ب سے یہ اشارہ ایسا کیوں ہوتا ہے جب بھی یوں ہوتا ہے دل یہ ہوں جاتا ترساؤ

Rehaan

1 likes

ابھی لگ جاؤ چھوڑ کر ابھی لگ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں نظر ابھی لڑی نہیں نشہ ابھی چڑھا نہیں ابھی لگ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں ابھی تو دن ڈھلا ہے یہ ابھی تو رات آئی ہے ازل کے بعد آج پھروں فضا یہ مسکرائی ہے فضا کو مسکرانے دو یہ دل معاف بھی جانے دو کہ اب لگ روکو خود کو جاناں یہ دوریاں مٹا دو جاناں ہواؤں ہے وہ ہے وہ یہ دل اڑے کہ پیار کے چمن کھلیں یہ رات بھی دیوانی ہے فضا بھی یہ سہانی ہے کہ با ہوں ہے وہ ہے وہ مجھے بھرو یوں جانے کی لگ ضد کروں ابھی تو دیکھو چاند بھی چکور سے ملا نہیں ابھی لگ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں ذرا ٹھہر بھی جاؤ ساتھ بیٹھ لو کچھ اور پل کہ تھام لوں یہ سمے ہے وہ ہے وہ کہ لکھ دوں پھروں کوئی غزل تمہیں بتاؤں آج جو کبھی لگ جاناں سے کہ سکا تمہیں دکھاؤں خوشی جو تمہارے بن لگ بہ سکا حسین ہوں گئی ہوں جاناں جوان ہوں گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بہار بن گئی ہوں جاناں مسان بن گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ کر دو اب ہرا مجھے غموں سے اب رہا مجھے تر سے ذرا تو کھاؤ جاناں ہے وہ ہے وہ اتنا بھی برا نہ

Rehaan

4 likes

'आशिक़ी(ख़्वाब, हक़ीक़त और ख़ुदा)' कोई सूरत नज़र को लुभा जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई ख़ुशबू साँसों को भा जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कभी सरगम लबों पे छा जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई ख़्वाब दिल में समा जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है मेरा ख़्वाब था कि तुझे भाया करूँँ तेरे सपनों में मैं आया करूँँ बचाकर चाँद-सितारों की नज़र से तुझे फ़लक की सैर पे ले जाया करूँँ इस क़दर तू मुझ सेे प्यार करे मेरे फ़रेब पे भी ऐतिबार करे कभी राधा बनके तो कभी मीरा बनके हर जनम बस मेरा ही इंतिज़ार करे तू मुश्किलों में मेरा साया बने मुझे धूप लगे तो छाया बने जब हार जाऊँ मैं उम्मीदें सभी तू ईश्वर की कोई माया बने कोई माया ईश्वर भी पिरो न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई दिल ग़र चैन से सो न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कभी आँखें खुल के रो न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई ख़्वाब हक़ीक़त हो न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है इक हक़ीक़त जिस ने बस सितम किया हर बार आँखों को नम किया तुझे कितना मैं ने चाहा मगर तू ने न मुझ पर कोई करम किया तेरे इंतिज़ार में सदियाँ बीती मेरी हर ख़ुशी ज़िन्दगी से रूठी मेरी उम्मीदें सब सिमट कर रह गई बस तमन्नाऍं कुछ यूँँ टूटी मेरी अधूरा ख़्वाहिश-ए-गुलाब रह गया मेरा ख़्वाब बस इक ख़्वाब रह गया न हो सका वो मुकम्मल कभी बिन चकोर के ही मेहताब रह गया कोई चाँद चकोर बिन रह जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई काफ़िर नज़्में कह जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कभी आँख से पानी बह जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई बिन बोले सब सह जाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई कितना सहे ये बता दे ख़ुदा मेरा इश्क़ मुझे अब लौटा दे ख़ुदा छट जाए अँधेरा हर ख़ुशी से मेरी कोई ऐसी रौशनी तू दिखा दे ख़ुदा मेरी मन्नतों का तू लिहाज़ कर मेरे पागलपन का इलाज कर मैं करता फिरूँ शुक्रिया तेरा कुछ ऐसा मेरा मिज़ाज कर मुझे फिर कोई ग़म न सता सके वो मुझ सेे नज़रें न हटा सके जुड़ जाए धड़कनें कुछ इस तरह उस दिल से न कभी कोई मिटा सके कोई धड़कन दिल से बिछड़ न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई ग़लतियों पे भी झगड़ न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कभी ख़ुदा भी ज़िद पे अड़ न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है कोई रिश्ता युगों तक उजड़ न पाए तो उसी का नाम आशिक़ी है

Rehaan

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehaan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehaan's nazm.