nazmKuch Alfaaz

سفر کے سمے تمہاری یاد مری دل کا داغ ہے لیکن سفر کے سمے تو بے طرح یاد آتی ہوں بر سے بر سے کی ہوں عادت کا جب حساب تو پھروں بے حد ستاتی ہوں جانم بے حد ستاتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول جاؤں م گر کیسے بھول جاؤں بھلا عذاب جاں کی حقیقت کا اپنی افسا لگ مری سفر کے حقیقت لمحے تمہاری پر حالی حقیقت بات بات مجھے بار بار سمجھانا یہ پانچ کرتے ہیں دیکھو یہ پانچ پاجامے ڈلے ہوئے ہیں قمر بند ان ہے وہ ہے وہ اور دیکھو یہ شیوباک سے ہے اور یہ ہے اولڈ اسپائ سے نہیں حضور کی جھونجل کا اب کوئی باعث یہ ڈائری ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ پتے ہیں اور نمبر اسے خیال سے بکسے کی جیب ہے وہ ہے وہ رکھنا ہے عرض حضرت غائب دماغ بن گرا کی کہ اپنے عیب کی حالت کو غیب ہے وہ ہے وہ رکھنا یہ تین کوٹ ہیں پتلون ہیں یہ ٹائیاں ہیں بندھی ہوئی ہیں یہ سب جاناں کو کچھ نہیں کرنا یہ ویلیم ہے اونٹل ہے اور ٹرپٹی نال جاناں ان کے ساتھ مری جاں ڈرنک سے ڈرنا بے حد زیادہ لگ پینا کہ کچھ لگ یاد آئی جو چھوڑنا ہے وہ ہے وہ ہوا تھا حقیقت اب دوبارہ لگ ہوں ہوں جاناں سخن

Jaun Elia6 Likes

Related Nazm

''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए

Amir Ameer

295 likes

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

Khalil Ur Rehman Qamar

191 likes

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ

Muneer Niyazi

108 likes

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے

Tehzeeb Hafi

180 likes

More from Jaun Elia

راتیں سچی ہیں دن جھوٹے ہیں چاہے جاناں مری بینائی کھرچ ڈالو پھروں بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا ان کی لذت اور اذیت سے ہے وہ ہے وہ اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبا گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا ہے وہ ہے وہ اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں ہاں مری خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے خوبصورت ہے ان صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے حقیقت سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے سو مری خوابوں کی راتیں جلتی اور دہکتی راتیں ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیں ج سے ہے وہ ہے وہ دھندلا چکر تقاضا چمکیلا پن چھے اطراف کا روگ بنا ہے مری اندھیرے بھی سچے ہیں اور تمہارے روگ اجالے بھی جھوٹے ہیں راتیں سچی ہیں دن جھوٹے جب تک دن جھوٹے ہیں جب تک راتیں سہنا اور اپنے خوابوں ہے وہ ہے وہ رہنا خوابوں کو بہکانے والے دن کے اجالوں سے اچھا ہے ہاں ہے وہ ہے وہ بہکاووں کی دھند نہیں اوڑھوں گا چاہے جاناں مری بینائی کھرچ ڈالو ہے وہ ہے وہ پھروں بھی اپنے خواب

Jaun Elia

7 likes

ب سے ایک اندازہ بر سے گزرے تمہیں سوئے ہوئے اٹھ جاؤ سنتی ہوں اب اٹھ جاؤ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آیا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اندازے سے سمجھا ہوں ی ہاں سوئی ہوئی ہوں جاناں ی ہاں رو زمین کے ا سے مقام آسمانی تر کی حد ہے وہ ہے وہ ہے وہ باد ہا تند نے مری لیے ب سے ایک اندازہ ہی چھوڑا ہے

Jaun Elia

7 likes

قاتل سنا ہے جاناں نے اپنے آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ سمجھا تھا کہ جاناں مری حفاظت ہے وہ ہے وہ ہوں مری بازوؤں ہے وہ ہے وہ ہوں سنا ہے بجھتے بجھتے بھی تمہارے سرد و مردہ لب سے ایک شعلہ شعلہ یاقوت فام و رنگ و امید فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود ہے وہ ہے وہ چھپا لیجے یہ میرا حقیقت عذاب جاں ہے جو مجھ کو مری اپنے خود اپنے ہی جہنم ہے وہ ہے وہ جلاتا ہے تمہارا سی لگ سی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے بازووان مرمریں مری لیے مجھ اک ہوسناک فرومایہ کی خاطر ساز و سامان نشاط و نشہ عشرت فزونی تھے مری عیاش لمحوں کی فسوں گر پر جنونی کے لیے سد لذت آگیں سد کرشمہ پر زبانی تھے تمہیں مری ہوں سے پیشہ مری سفاق قاتل بے وفائی کا گماں تک ا سے گماں کا ایک وہم خود گریزاں تک نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں کوئی ہوتا کوئی تو ہوتا جو مجھ سے مری سفاق قاتل بے وفائی کی سزا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خون تھکواتا مجھے ہر لمحے کی سولی پہ لٹکاتا م گر پڑنا کوئی بھی نہیں کوئی دریغ افتاد کوئی بھی<b

Jaun Elia

5 likes

ہمیشہ قتل ہوں جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بسات زندگی تو ہر گھڑی بچھتی ہے اٹھتی ہے ی ہاں پر جتنے خانے جتنے گھر ہیں سارے خوشیاں اور غم انعام کرتے ہیں ی ہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیں کبھی محسور ہوتے ہیں کبھی آگے نکلتے ہیں ی ہاں پر شہ بھی پڑتی ہے ی ہاں پر مات ہوتی ہے کبھی اک چال ٹلتی ہے کبھی بازی پلٹتی ہے ی ہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیں م گر ہے وہ ہے وہ حقیقت پیادہ ہوں جو ہر گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے شہ سے پہلے اور کبھی ا سے مات سے پہلے کبھی اک برد سے پہلے کبھی آفات سے پہلے ہمیشہ قتل ہوں جاتا ہے

Jaun Elia

10 likes

فن پارہ یہ کتابوں کی صف بہ صف جلدیں کاغذوں کا فضول استعمال روشنائی کا شاندار اسراف سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبے جن کی توجیہ آج تک لگ ہوئی چند خوش ذوق کم نصیبوں نے بسر اوقات کے لیے شاید یہ لکیرے بکھیر ڈالی ہیں کتنی ہی بے قصور جالے نے ان کو پڑھنے کے جرم ہے وہ ہے وہ تا عمر لے کے کشکول علم و حکمت و فن کو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے آہ یہ سمے کا عذاب علیم سمے خلاق بے شعور اچھی اچھی ساری تعریفیں ان اندھیروں کی جن ہے وہ ہے وہ پرتو لگ کوئی پرچھائیں آہ یہ زندگی کی تنہائی سوچنا اور سوچتے رہنا چند معصوم پاگلوں کی سزا آج ہے وہ ہے وہ نے بھی سوچ رکھا ہے سمے سے انتقام لینے کو یوںہی تا شام سادے کاغذ پر ٹیڑھے ٹیڑھے خطوط کھینچے جائیں

Jaun Elia

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaun Elia.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaun Elia's nazm.