سنو شا گرا مبارک ہوں سنو شا گرا مبارک ہوں دلہن تو بن چکی ہوں اب بتا بھی دو کہ سننے کو حقیقت خوش خبری ہے وہ ہے وہ آؤں اب کسی دن چھوڑ جائے گی تری بیٹے کو کوئی جب کسی عاشق کی ماں کا دکھ سمجھ پائے تو شاید تب اسے انصاف کہتے ہیں اسی سے بھاگتے ہیں سب اسی کو پوجتا ہوں ہے وہ ہے وہ اسی سے کانپتے ہیں رب م گر تب تک مناسب ہے تڑپ کو بولنا کرتب سنو شا گرا مبارک ہوں دلہن تو بن چکی ہوں اب
Related Nazm
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
نجم کیا ہے شاعری کی دو صنفیں ہیں نظم و غزل اردو ہے وہ ہے وہ ان کی شہرت ہے بچوں اٹل نجم پابند ہے نجم آزاد بھی یہ کبھی نثر ہے اور معرا کبھی نظم پابند ہے وہ ہے وہ وزن ہوگا میاں اور آزاد ہے وہ ہے وہ بھی ہے ا سے کا نشان نظم پابند کا طرز ہے جو لطیف ا سے ہے وہ ہے وہ پاؤگے جاناں قافیہ و ردیف نثری نظموں ہے وہ ہے وہ ب سے نثر ہی نثر ہے وزن اور قافیہ ہے لگ ہی بہر ہے وزن اور قافیہ جن کو مشکل ہوئے نثری نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عموماً حقیقت کہتے لگے وزن نظم معری ہے وہ ہے وہ ہے دوستو ا سے کو جاناں بے ردیف و قوافی کہو مثنوی ہوں قصیدہ ہوں یا رکھ نجم کا ملتا ہے بچوں ہم کو پتا نجم ہے وہ ہے وہ سلسلہ ہے خیالات کا ایک دریا سا ہے دیکھو جذبات کا حقیقت مخم سے ہوں یا ہوں مسد سے کوئی یہ بھی اک شکل ہے نظم پابند کی حقیقت غزل ہوں کہ ہوں نجم بچوں سنو دونوں یکساں ہیں شہرت ہے وہ ہے وہ ب سے جان لو خون تمنا کی نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشہور ہیں ہر جگہ ہیں غزل کے ج گر واقعی بادشاہ نجم ہے وہ ہے وہ جو کہانی کہی جائے گی شوق سے اے میاں حقیقت سنی جائے گی
Amjad Husain Hafiz Karnataki
13 likes
ترک عشق سنو پریمکا اوئے انامیکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے نہیں لکھتا لکھتے ہوں گے جو لکھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں لکھتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں لکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں بکنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ میرا من کرتا ہے جاناں میری گیت ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو میری غزل ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری کویتا ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری نجم ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں جانوں جب ہے وہ ہے وہ تمہیں نہیں لکھتا اور ہے وہ ہے وہ کیوں لکھوں تمہارے لیے کیا کیا ہے جاناں نے ہمارے لیے وہی سمجھداری بھری باتیں جو جاناں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں جب بھی ملتی سمجھداری بھری باتیں کرتی اور ہے وہ ہے وہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ 9 ہی چپ رہتا تھا کیونکہ کبھی تو جواب نہیں ہوتے تھے اور کبھی ہے وہ ہے وہ سنکوچ جاتا مگر جاناں کرتی تھی کیوں ن
Rakesh Mahadiuree
22 likes
طیب حقیقت 9 مجھ سے کہتی تھی سنو جب ہم بڑے ہوں گے ہم اپنا گھر بسائیں گے تو اپنے بیٹے کو ہم پیار سے طیب بلائیں گے ابھی کچھ دن ہی بیتے تھے کہ طیب آ گیا تو اک دن یہ طیب حقیقت نہیں تھا جو میرے خوابوں کا حصہ تھا یہ طیب حقیقت تھا جو اس کا کی یادوں ہے وہ ہے وہ رہتا تھا نہیں سمجھے ہوں جو اب بھی سنو جاناں کو ہے وہ ہے وہ سمجھاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی پہلی محبت کا دوجا عشق تھا پیارے سنا ہے اب حقیقت کہتی ہے سنو طیب سنو طیب کہو تو اپنے بیٹے کو آنند پکاریں اب
Anand Raj Singh
7 likes
سرخ گلاب اور بدر منیر اے دل پہلے بھی تنہا تھے اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے جو داغ کہ بدر منیر ہوئے ا سے طرحہ سے کب تک جینا ہے ہے وہ ہے وہ ہار گیا تو ا سے جینے سے کوئی ابر اڑے کسی قلزم سے ر سے برسے مری ویرانے پر کوئی جاگتا ہوں کوئی کڑھتا ہوں مری دیر سے واپ سے آنے پر کوئی سان سے بھرے مری پہلو ہے وہ ہے وہ کوئی ہاتھ دھرے مری شانے پر اور دبے دبے لہجے ہے وہ ہے وہ کہے جاناں نے اب تک بڑے درد سہے جاناں تنہا تنہا جلتے رہے جاناں تنہا تنہا چلتے رہے سنو تنہا چلنا کھیل نہیں چلو آؤ مری ہمراہ چلو چلو نئے سفر پر چلتے ہیں چلو مجھے بنا کے گواہ چلو
Saqi Faruqi
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Anant Gupta.
Similar Moods
More moods that pair well with Anant Gupta's nazm.







