" तुम उसे अच्छा कहो " वो डाँटता है तुम उसे अच्छा कहो वो मानता है तुम उसे अच्छा कहो हर शख़्स बस तकलीफ़ देता है यहाँ वो प्यार करता तुम उसे अच्छा कहो सब शक्ल सूरत देखते ही हैं यहाँ दिखता उसे गुण तुम उसे अच्छा कहो सब बेवजह ही छोड़ जाते आजकल वो साथ देता तुम उसे अच्छा कहो शुभ बाँटना बस प्यार ही है चाहता अच्छा लगे तो तुम उसे अच्छा कहो
Related Nazm
انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں
Faiz Ahmad Faiz
27 likes
اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے
Sandeep Thakur
21 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
دریچہ ہا خیال چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور یہ سب دریچہ ہا خیال جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں بند کر دوں کچھ ا سے طرح کہ ی ہاں یاد کی اک کرن بھی آ لگ سکے چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور خود بھی لگ یاد آؤں تمہیں چنو جاناں صرف اک کہانی تھیں چنو ہے وہ ہے وہ صرف اک فسا لگ تھا
Jaun Elia
27 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shubham Rai 'shubh'.
Similar Moods
More moods that pair well with Shubham Rai 'shubh''s nazm.







