یہ ہے ہم سبکا ہندوستان ی ہاں ہے ہندو مسلمان ی ہاں کا سرمایہ ایمان ی ہاں دیووں چنو انسان ی ہاں کا جگ پر ہے احسان یہ ہے ہم سبکا ہندوستان ی ہاں گنگا یمنا کی دھار ہمالیہ پہاڑ کا سردار ی ہاں کا اعلیٰ ہے کردار کہ ج سے کو مانتا ہے سنسر ی ہاں بستے ہے ب سے انسان یہ ہے ہم سبکا ہندوستان ی ہاں ہے گیتا اور ہوشیاروں ی ہاں کے تاکتے اور رسخان ی ہاں تہذیبوں کا ملان لگ جانے کیوں ٹیڈی قربان یہ ہے ہم سبکا ہندوستان
Related Nazm
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے
Zubair Ali Tabish
19 likes
ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم مری شہرت میرا ڈنکا مری اعزاز کا سن کر کبھی یہ لگ سمجھ لینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوٹی کا لکھاری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹا سا بیوپاری ہوں مری آرت پہ برسوں سے جو مہنگے دام بکتا ہے حقیقت تری غم کا سودا ہے تیری آنکھیں تری آنسو تیری چاہت تری جذبے ی ہاں سیلفوں پہ رکھے ہیں وہی تو ہے وہ ہے وہ نے بیچے ہیں تمہاری بات چھڑ جائے تو باتیں بیچ دیتا ہوں ضرورت کچھ زیادہ ہوں تو یادیں بیچ دیتا ہوں تمہارے نام کے صدقے بے حد بڑھانے کمایا ہے نئی گاڑی خری گرا ہے نیا بنگلہ بنایا ہے م گر کیوں مجھ کو لگتا ہے مری اندر کا بیوپاری تمہیں کو بیچ آیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم
Khalil Ur Rehman Qamar
34 likes
ایک لڑکی بلند قامت کی ایک لڑکی بکھیرتی خوشبوئیں بدن کی مری نگا ہوں کی رہگزر سے گزر گئی ہے غریب مفل سے کسی کٹی کا ہے چاند شاید ہے خوبصورت پھٹے پرانے لبا سے ہے وہ ہے وہ بھی بلا کی سندر ذرا سا مری قریب آ کر حسین لبوں سے یوں مسکرا کر تمام عالم کو خوشبوؤں سے حقیقت بھر گئی ہے جبیں کشادہ چمک رہی ہے کمر تراش بھی ا سے کی ہے شاخ جیسی لچک رہی ہے لبوں پہ بکھرا ہوا تبسم سیاہ گیسو بھی ا سے بدن سے لپٹ رہے ہیں یوں چنو کوئی شجر سے لپٹی ہوں بیل چنو قدم قدم پہ جیوں پھول کھلتے ہیں سرخ گویا جدھر گئی ہے حقیقت جسم چھوؤں گا قبائیں ج سے کی ہوں گویا ہیرا حقیقت بیش قیمت ہر اک ادا ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب کی ہے استعمال لطافت کسی پری وش سے خوبصورت سخن وروں کے خیال سی ہے کہ سرخ رو ا سے حسین کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ مثال کیا دوں گلال سی ہے نگاہ خنجر ادائیں قاتل غصہ لہجہ ب سے اک نظر سے مری ج گر ہے وہ ہے وہ اتر گئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں ایک شاعر سو مجھ کو ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غزل دیکھی ہے لگا ہے مجھ ک
KARAN
6 likes
مکمل عشقمکمل عشق میرا مری بعد کسی غیر کا نا رہا سب سجدے مکمل ہوئے ب سے تیرا آنا وفل رہا تیری نمائش پسند آنکھوں کا بڑھا ی ہاں پہرہ رہا تجھے ہر نظر سے بچانے کو ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ٹھہرا رہا تجھے سیاہی مانکر ہے وہ ہے وہ اپنی کتاب لکھتا رہا تجھے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پاکر ہے وہ ہے وہ اسے زندگی بھر پڑھتا رہا تجھے انہی لفظوں سے تاج کا ممتاز بناتا رہا اپنی ہر کہانی ہے وہ ہے وہ ہیر سے رانجھے کو دور کراتا رہا تو ب سے انتظار کر ہے وہ ہے وہ خود کو یہی سمجھاتا رہا تو ب سے ٹھہراؤ نکلی سمے کا جو گزر جاتا رہا
Devansh gupta
6 likes
نثری نجم نثر ابا نجم اماں دونوں کو انکار ہے یہ جو نثری نجم ہے یہ ک سے کی پیدا وار ہے صرف لفاظی پہ مبنی ہے یہ تجری گرا چھوؤں گا ج سے ہے وہ ہے وہ عنقا ہیں معانی لفظ پردہ دار ہے نثر ہے گر نثر تو حقیقت نجم ہوں سکتی نہیں نجم جو ہوں نثر کی مانند حقیقت بے کار ہے قافیہ کی کوئی آزمایا لگ ہے قید ردیف بے در و دیوار کا یہ گھر بھی کیا سخن ساز ہے بہر سے آزاد قید وزن سے ہے بے نیاز واہ کیا مدر پدر آزاد یہ دلدار ہے مرتبے ہے وہ ہے وہ میر و مومن سے ہے ہر کوئی بلند ان ہے وہ ہے وہ ہر بے بحر تاکتے سے بڑا فنکار ہے ج سے کے چمچے جتنے زیادہ ہوں حقیقت اتنا ہی عظیم آج کل مصرع اٹھانا ایک کاروبار ہے داد صرف اپنوں کو دیتے ہیں گروہ اندر گروہ ان کے ٹولے سے جو باہر ہوں گیا تو مردار ہے بن گیا تو استاد و علامہ ی ہاں ہر بے شعور کور چشم اہل نظر ہونے کا دعویدار ہے شاعری بانہوں شاعری ہے ہے ذرا محنت طلب اور محنت ہی حقیقت اجازت ہے ج سے سے ان کو آر ہے پاپ میوزک کے لیے بحر کشف مدعا ہے نثری شاعری ہر روایت سے بغاوت کی یہ دعویدار ہے طبع معنی دل گر لگ بخشی ہوں
Aasi Rizvi
13 likes
More from Navneet krishna
"परिचय ग़रीबी का" चुप-चाप दर्द को समेट कर चेहरे पर मुस्कान ले जाता है घर पर पहुँचकर ,अपने बच्चों के साथ ठेले पर बैठ कर, प्यारी सी मुस्कान देता है कोमल से हाथ को पकड़ कर बाप उस की उँगलियाँ हाथों में ले कर नाख़ून काट कर एक सीध में लाता है इसे डर नहीं घर में चोरी होने का , साँझ ढलते ही वो सो जाता है , ये मेहनत की कमाई करता है , किसी का हक़ नहीं मरता , केवल अपने हक का खाता है , न बँगला है न गाड़ी है , फिर भी पूरा शहर घूम लेता है , न पेट्रोल, न डीज़ल , न कोई ईंधन , चार पहिए के उड़न खटोले पर , प्रकृति से रोमांस करता है, न पोल्यूशन, न गंदगी , स्वच्छता का प्रतीक बना, शहर-का-शहर भ्रमन करता है इस का ठेला ही इस की ज़िन्दगी है , पूजा है, व्रत है, बंदगी है , एक छोटा सा परिवार है , बच्चा ही संसार है , ये मुस्कुराता हुआ चेहरा , साहब ये तो , एक गुपचुप बेचने वाला है, एक ठेला ठेलने वाला है
Navneet krishna
8 likes
جے آدر جے آدر گیان کے دیپک ہے نمن تمہیں آبھار صاحب کردار ابھینمن سنگ ساریپتر تمہیں ج سے نے گیان کا پاتھ پڑھایا پریم کا سکھ سندیش سنایا ج سے نے ہے سٹوپ دلایا ج سے نے شانتی مگدھ بنایا کیسے بھولے ا سے پرتیک کو ہے نمن تمہیں جے آدر گیان کے دیپک ہے نمن تمہیں آبھار صاحب کردار ابھینمن سنگ ساریپتر تمہیں سمراٹ جراساندھ کی لاج ہے ج سے نے بچائی بھومی پیڑا ہے وہ ہے وہ جو مسکرائی جیوٹی جگ جگ ہے وہ ہے وہ پھیلائی ج سے بھومی پر ونش آئی جنم لیے گرجا گھر اور بدھ ہے نمن تمہیں جے آدر گیان کے دیپک ہے نمن تمہیں آبھار صاحب کردار ابھینمن سنگ ساریپتر تمہیں
Navneet krishna
6 likes
نظم زندگی زندگی حباب ہے زندگی تو خواب ہے زندگی کتاب ہے زندگی حساب ہے زندگی شراب بھی زندگی رباب ہے زندگی سوال بھی اور کبھی جواب ہے سان سے پر تنی ہوئی زندگی طناب ہے قیامت ہی قیامت زندگی عذاب ہے ہاں م گر کبھی کبھی زندگی رباب ہے زندگی گلاب ہے زندگی عتاب ہے اصل ہے وہ ہے وہ یہ زندگی بند کوئی باب ہے
Navneet krishna
7 likes
"बेटियाँ " कुछ नहीं बहुत कुछ करने लगी हैं बेटियाँ कुछ नहीं बहुत कुछ सहने लगी हैं बेटियाँ माँ - बाप के लिए ही ज़िंदा रहती हैं बेटियाँ पर इन्हीं के हाथों नालियों में बहती हैं बेटियाँ कुछ नहीं बहुत कुछ करने लगी हैं बेटियाँ क्या गुनाह है इनका जो इतना ज़ुल्म सहती हैं बेटियाँ नालियों में ही अक्सर न जाने क्यूँ बहती हैं बेटियाँ अपने ही घरों में क्यूँ मारी जा रही हैं बेटियाँ आज भी और कल भी दर्द की चोट से सिसकती हैं बेटियाँ कुछ नहीं बहुत कुछ करने लगी हैं बेटियाँ न जाने क्यूँ पराई घर में बेची जा रही हैं बेटियाँ दर- बदर भटक रही हैं अक्सर क्यूँ बेटियाँ बेटो के चोट पे भी डराई जाती हैं बेटियाँ और जन्म लेते ही बस ज़िन्दा जलाई जाती हैं बेटियाँ कुछ नहीं बहुत कुछ करने लगी हैं बेटियाँ बेटों के जन्म लेने के कारण आजन्म ही रह जाती हैं बेटियाँ कभी मंदिर में कभी मस्जिद में क्यूँ दबोची जा रही हैं बेटियाँ दर्द को आख़िर क्यूँ दर्द समेट रही हैं आजकल बेटियाँ हर तरह ज़ुल्म-ओ-सितम से सिर्फ़ एक दिन ज़िंदा रहती हैं बेटियाँ कुछ नहीं बहुत कुछ करने लगी हैं बेटियाँ
Navneet krishna
5 likes
ہریالی مشن ک ہاں حقیقت دھرتی ہے مری جان تھی ج سے کی ہریالی پہچان اسے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ہوا ہے وہ ہے وہ زہر گھلی ہے آج یہ پانی ہے وہ ہے وہ بھی ملا ہے آج بچاؤں آج ی ہاں پر جا اسے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں حقیقت سندر سایہ اپنے گاؤں ج ہاں تھی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں ج ہاں کویلیا یہ سور ارمان اسے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ی ہاں تھی بانسوریا کی کوک ی ہاں تھی سرتان کی پھونک فضا ہے وہ ہے وہ چھایا تھا ہر شان اسے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں ک ہاں کھویا حقیقت ہندوستان نرالی ج سے کی تھی خلافت کی ج سے پر تھا ہم کو ابھیمان اسے ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہوں
Navneet krishna
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Navneet krishna.
Similar Moods
More moods that pair well with Navneet krishna's nazm.







