شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینا زینا اتر رہی ہے رات یوں صبا پا سے سے گزرتی ہے چنو کہ دی کسی نے پیار کی بات صحن زنداں کے بے وطن اشجار سر نگوں محو ہیں بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دامن آسمان پہ نقش و نگار شا لگ بام پر دمکتا ہے مہرباں چاندنی کا دست جمیل خاک ہے وہ ہے وہ گھل گئی ہے آب نجوم نور ہے وہ ہے وہ گھل گیا تو ہے عرش کا نیل سبز گوشوں ہے وہ ہے وہ نیل گوں سائے لہلہاتے ہیں ج سے طرح دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ موج درد فراق یار آئی دل سے پےہم خیال کہتا ہے اتنی شیریں ہے زندگی ا سے پل ظلم کا زہر گھولنے والے کامراں ہوں سکوگے آج لگ کل جلوہ گاہ وصال کی شمعیں حقیقت بجھا بھی چکے ا گر تو کیا چاند کو گل کریں تو ہم جانیں
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
سزا ہر بار مری سامنے آتی رہی ہوں جاناں ہر بار جاناں سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتی ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں ہے وہ ہے وہ خود بھی نہیں جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو جان کر ہی پڑی ہوں عذاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے طرح خود اپنی سزا بن گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں ج سے زمین پر ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کا خدا نہیں پ سے سر بسر اذیت و الا آزار ہی رہو بیزار ہوں گئی ہوں بے حد زندگی سے جاناں جب ب سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو جاناں کو ی ہاں کے سایہ و الا پرتو سے کیا غرض جاناں اپنے حق ہے وہ ہے وہ بیچ کی دیوار ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یعنی سے بےمہر ہی رہا جاناں انتہا عشق کا گاہے ہی رہو جاناں خون تھوکتی ہوں یہ سن کر خوشی ہوئی ا سے رنگ ا سے ادا ہے وہ ہے وہ بھی سخن ساز ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے نجات ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو اپنی متا ناز لٹا کر مری لیے بازار التفات ہے وہ ہے وہ نادار
Jaun Elia
44 likes
خدا کا سوال مری رب کی مجھ پر عنایت ہوئی ک ہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی حقیقت ہوئی چنو مجھ پر عیاں بن گئی ہے خدا کی زبان ہوتے ہوتے مخاطب ہے بندے سے پروردگار تو حسن چمن تو ہی رنگ بہار تو معراج فن تو ہی فن کا سنگار مصور ہوں ہے وہ ہے وہ تو میرا شاہکار یہ صبحیں یہ شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دن اور رات یہ رنگین دلکش حسین ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حور و ملائک و الا جنات نے کیا ہے تجھے اشرف اول مخلوقات عظمتوں مری جلترنگ کا حوالہ ہے تو تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو یہ دنیا ج ہاں بزم آرائیاں یہ محفل یہ ذائقہ یہ تنہائیاں فلک کا تجھے شامیا لگ دیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تجھے آب و دا لگ دیا ملے آبشاروں سے بھی حوصلے پہاڑوں ہے وہ ہے وہ تجھ کو دیے راستے یہ پانی ہوا اور یہ شم سے و قمر یہ موج رواں یہ کنارہ بھنور یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے فلک پہ ستارے تم چمکتے ہوئے یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں یہ پنچھی یہ اڑتی ہوئی تتلیاں یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے چرندوں یہ جھیلوں ہے وہ ہے وہ ہنستے ہوئے س
Abrar Kashif
46 likes
ہم گھوم چکے بستی بن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک آ سے کی فان سے لیے من ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی ساجن ہوں کوئی پیارا ہوں کوئی دیپک ہوں کوئی تارا ہوں جب جیون رات اندھیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں جب ساون بادل چھائی ہوں جب فاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہوں جب سورج دھوپ نہاتا ہوں یا شام نے بستی گھری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کب تک دور جھروکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب دید سے دل کو سیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں کیا جھگڑا سود گٹھلیاں کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا دنیا لے جائے جاناں ایک مجھے بہتری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں
Ibn E Insha
22 likes
پیڑ سترہ اٹھارہ سال کی تھی حقیقت جب حقیقت دنیا چھوڑ گئی تھی آخری سانسیں گنتی لڑکی مجھ سے ہمت بانٹ رہی تھی ہاتھ پکڑ کے ڈانٹ رہی تھی ایسے تھوڑی کرتے ہیں عاشق تھوڑی مرتے ہیں جسم تو ایک کہانی ہے سانسیں آنی جانی ہیں ا سے نے کہا تھا پیارے لڑکے سب سے ملنا ہن سے کے ملنا میری یاد ہے وہ ہے وہ پیڑ لگانا پاگل لڑکے عشق کے حامی میرے پیچھے مر مت جانا عشق کیا تھا عشق نبھانا
Rishabh Sharma
20 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
Faiz Ahmad Faiz
3 likes
گزر رہے ہیں شب و روز جاناں نہیں آتی ریاض زیست ہے آزردہ بہار ابھی مری خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں تری غم کی کفیل ہیں پیاری ابھی تلک مری تنہائیوں ہے وہ ہے وہ بستی ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری ادا سے آنکھیں تری دید کو مشین ہیں بہار حسن پہ پابن گرا کہوں کب تک یہ آزمائش دل پامال گریز پا کب تک قسم تمہاری بے حد غم اٹھا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلط تھا دعا دل پامال و شکیب آ جاؤ قرار خاطر بیتاب تھک گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
میرا درد نغمہ بے صدا مری ذات ذرہ بے نشاں مری درد کو جو زبان ملے مجھے اپنا نام و نشاں ملے مری ذات کا جو نشان ملے مجھے راز نظم ج ہاں ملے جو مجھے یہ راز ن ہاں ملے مری خموشی کو بیاں ملے مجھے کائنات کی قلندری مجھے دولت دو ج ہاں ملے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
اک ذرا اڑانی دو ا سے خیاباں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو ا سے لہجہ شایاں بھی نہیں کون سی شاخ ہے وہ ہے وہ پھول آئی تھے سب سے پہلے کون بے رنگ ہوئی رنج و تعب سے پہلے اور اب سے پہلے ک سے گھڑی کون سے موسم ہے وہ ہے وہ ی ہاں خون کا قحط پڑا گل کی شہ رگ پہ کڑا سمے پڑا اڑانی دو اڑانی دو اک ذرا اڑانی دو یہ بھرا شہر جو اب وا گرا ویراں بھی نہیں ا سے ہے وہ ہے وہ ک سے سمے ک ہاں آگ لگی تھی پہلے ا سے کے صف بستہ دریچوں ہے وہ ہے وہ سے ک سے ہے وہ ہے وہ اول زہ ہوئی سرخ شعاؤں کی کماں ک سے جگہ جوت جگی تھی پہلے اڑانی دو ہم سے ا سے دی سے کا جاناں نام و نشان پوچھتے ہوں ج سے کی پوچھوں لگ جغرافیہ اب یاد آئی اور یاد آئی تو محبوب گزشتہ یاد آئی رو برو آنے سے جی گھبرائے ہاں م گر چنو کوئی ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو آ نکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لیے ہم اب ا سے عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یوںہی دل سے مل آتے ہیں ب سے رسم نبھانے کے لیے دل کی کیا پوچھتے ہوں اڑانی دو
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
مجھے موجزوں پہ یقین نہیں م گر آرزو ہے کہ جب قضا مجھے بزم دہر سے لے چلے تو پھروں ایک بار یہ اذن دے کہ لحد سے لوٹ کے آ سکون تری در پہ آ کے صدا کروں تجھے غم گسار کی ہوں طلب تو تری حضور ہے وہ ہے وہ آ ر ہوں یہ لگ ہوں تو سو رہ عدم ہے وہ ہے وہ پھروں ایک بار روا لگ ہوں
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.







