آباد ہوئے شہر ہے وہ ہے وہ شمشان ہزاروں قاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں جو آپ چلے آئی سرے بام قسم سے ہونے لگے قربان دلو جان ہزاروں
Related Sher
کوئی دقت نہیں ہے گر تمہیں الجھا سا لگتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلی مرتبہ ملنے ہے وہ ہے وہ سب کو ایسا لگتا ہوں ضروری تو نہیں ہم ساتھ ہیں تو کوئی چکر ہوں حقیقت مری دوست ہے اور ہے وہ ہے وہ اسے ب سے اچھا لگتا ہوں
Ali Zaryoun
521 likes
تمہیں حسن پر دسترسی ہے محبت وہبت بڑا جانتے ہوں تو پھروں یہ بتاؤ کہ جاناں ا سے کی آنکھوں کے بارے ہے وہ ہے وہ کیا جانتے ہوں یہ جغرافیہ فلسفہ سائیکالوجی سائن سے ریاضی وغیرہ یہ سب جاننا بھی اہم ہے م گر ا سے کے گھر کا پتا جانتے ہوں
Tehzeeb Hafi
1279 likes
شاخوں سے ٹوٹ جائیں حقیقت پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہ دے کہ اوقات ہے وہ ہے وہ رہے
Rahat Indori
435 likes
سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا
Jaun Elia
545 likes
تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے
Faiz Ahmad Faiz
401 likes
More from Navneet krishna
یقین کس طرح کوئی بچھاتی کرےگا وہ کھاتے ہیں جھوٹی قسم دیکھتے ہیں نہیں جس کی تعبیر کوئی جہاں میں وہی خواب ہم اے صنم دیکھتے ہیں
Navneet krishna
2 likes
آپ کو اپنا بنانا چاہتا ہوں اک نئی دنیا بسانا چاہتا ہوں آپ کو ہے وہ ہے وہ آزمانا چاہتا ہوں اک نیا یہ کارنامہ چاہتا ہوں
Navneet krishna
2 likes
تقدیر مری مجھ سے بغاوت یوں کر گئی چنو گلوں پہ خوشبو ہی الزام دھر گئی
Navneet krishna
4 likes
نظر کے سامنے سے پھروں نیا منظر گیا تو ہے دل لیے جمبیل ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں در در گیا تو ہے دل
Navneet krishna
4 likes
جاناں تو اونچے گھرانے سے ہوں ہم ہی مفل سے صنم رہ گئے
Navneet krishna
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Navneet krishna.
Similar Moods
More moods that pair well with Navneet krishna's sher.







